پشاور ہائی کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت دو رکنی بینچ نے کی جس میں جسٹس ارشد علی اور جسٹس صادق علی مومند شامل تھے۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل سلیمان خان نے عدالت کو بتایا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے جبکہ 26ویں اور 27ویں ترامیم کے باعث عوام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ترامیم کے نتیجے میں ججز کی تعیناتی میں میرٹ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور حکومت نے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ اقدامات کیے ہیں۔عدالت نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ آیا اس معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان یا کسی وفاقی آئینی عدالت میں بھی درخواستیں زیر سماعت ہیں یا نہیں؟۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے تصدیق کی جائے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں اس معاملے پر کوئی درخواست زیر سماعت نہ ہوئی تو آئندہ سماعت پر پشاور ہائی کورٹ اس کیس کو باقاعدہ طور پر سنے گی۔سماعت کے بعد کیس کی مزید کارروائی آئندہ پیشی تک ملتوی کردی گئی۔







