محمد دائود
گیارہ فروری 1979ء ایران کی تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جس نے نہ صرف ملک کے سیاسی نظام کو بدل دیا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نئی سوچ کو جنم دیا۔ اسی دن ایران میں شاہی نظام کا خاتمہ ہوا اور اسلامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ یہ دن آج بھی ایران میں یومِ انقلاب کے طور پر قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے اور ایرانی قوم اپنی جدوجہد اور قربانیوں کو یاد کرتی ہے۔
انقلاب سے قبل ایران پر شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت تھی، جسے مغربی طاقتوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ شاہی دور میں بظاہر ترقی اور جدیدیت کے دعوے کیے جاتے تھے، مگر عام شہری سیاسی آزادی، سماجی انصاف اور بنیادی حقوق سے محروم تھے۔ اظہارِ رائے پر پابندیاں تھیں، سیاسی مخالفین کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں اور ساواک کے ذریعے خوف کی فضا قائم کی گئی تھی۔ قومی دولت چند طبقوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور محرومی بڑھتی چلی گئی۔
اسی ماحول میں امام روح اللہ خمینیؒ ایک مضبوط اور باوقار قیادت کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے شاہی نظام کو ظلم اور ناانصافی کی علامت قرار دیتے ہوئے اسلامی اصولوں پر مبنی نظام کا تصور پیش کیا۔ 1964ء میں جلاوطنی کے باوجود وہ عوام کی رہنمائی کرتے رہے۔ ان کے پیغامات اور خطابات خفیہ طور پر ایران پہنچتے رہے اور عوام میں بیداری اور شعور پیدا کرتے رہے۔ انہوں نے قوم کو اتحاد، صبر اور استقامت کا درس دیا، جس نے تحریک کو ایک مضبوط نظریاتی بنیاد فراہم کی۔
1977ء کے بعد ایران میں عوامی احتجاجی تحریک نے شدت اختیار کر لی۔ طلبہ، علما، مزدور، تاجر اور عام شہری سب سڑکوں پر نکل آئے۔ مساجد اور تعلیمی ادارے انقلابی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے۔ 1978ء میں قم، تبریز اور تہران سمیت مختلف شہروں میں بڑے مظاہرے ہوئے۔ شہداء کی چہلم پر ہونے والے احتجاج نے تحریک کو مزید تقویت دی اور یہ سلسلہ مسلسل پھیلتا چلا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ احتجاجات ایک ہمہ گیر عوامی انقلاب کی صورت اختیار کر گئے۔
عوامی دباؤ، ہڑتالوں اور ملک گیر مظاہروں کے باعث شاہ محمد رضا پہلوی 16 جنوری 1979ء کو ایران چھوڑ کر ملک سے باہر چلے گئے۔ ان کے جانے سے شاہی حکومت کی بنیادیں ہل گئیں، تاہم نظام مکمل طور پر ختم ہونے میں ابھی کچھ دن باقی تھے۔ ملک میں سیاسی بے یقینی کی کیفیت تھی، مگر عوام کا حوصلہ بلند تھا اور وہ اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم تھے۔
یکم فروری 1979ء کو امام خمینیؒ طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچے۔ تہران میں لاکھوں افراد نے ان کا تاریخی استقبال کیا۔ یہ منظر عالمی میڈیا پر نمایاں رہا اور دنیا بھر میں یہ پیغام گیا کہ ایرانی عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ واپسی کے بعد امام خمینیؒ نے عبوری حکومت قائم کی اور عوام کو نظم و ضبط، اتحاد اور تحمل کا پیغام دیا تاکہ انقلاب کسی انتشار کا شکار نہ ہو۔
بالآخر 11 فروری 1979ء کو وہ فیصلہ کن دن آ گیا جب ایرانی فوج نے غیر جانبداری کا اعلان کر دیا۔ اس اعلان کے بعد شاہی حکومت کی رہی سہی طاقت بھی ختم ہو گئی۔ فوجی مراکز، سرکاری دفاتر اور اہم تنصیبات عوام کے کنٹرول میں آ گئیں اور یوں صدیوں پر محیط بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔ اسی دن اسلامی انقلاب اپنی منزل تک پہنچا اور ایران ایک نئے دور میں داخل ہو گیا۔
انقلاب کے بعد اپریل 1979ء میں ریفرنڈم کے ذریعے ایران کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔ عوام کی بھاری اکثریت نے نئے نظام کے حق میں ووٹ دیا۔ بعد ازاں نیا آئین مرتب کیا گیا جس میں اسلامی اصولوں، عوامی رائے اور قومی خودمختاری کو بنیادی حیثیت دی گئی۔ ولایتِ فقیہ کا نظام متعارف کرایا گیا اور ریاستی ڈھانچے کو ایک نئی سمت دی گئی۔
انقلابِ ایران نے عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی ملک میں مذہبی بنیادوں پر قائم عوامی تحریک نے ایک طاقتور اور مغرب نواز حکومت کو ختم کیا۔ اس انقلاب سے مسلم دنیا میں سیاسی اور فکری بیداری پیدا ہوئی، جبکہ مغربی طاقتوں کو ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نمایاں تبدیلیاں آئیں اور مزاحمتی تحریکوں کو حوصلہ ملا۔
آج بھی ایران میں ہر سال 11 فروری کو یومِ انقلاب پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ملک بھر میں ریلیاں، تقاریب اور سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور نئی نسل کو اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ یہ دن قومی وحدت، خودداری اور نظریاتی وابستگی کی علامت بن چکا ہے۔
گیارہ فروری 1979ء محض ایک حکومت کے خاتمے کا دن نہیں بلکہ ایک فکری، نظریاتی اور سماجی انقلاب کی علامت ہے۔ یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جب قوم متحد ہو، قیادت مخلص ہو اور مقصد واضح ہو تو تاریخ کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔ انقلابِ ایران آج بھی دنیا بھر کے مظلوم عوام کے لیے امید، حوصلے اور استقامت کا پیغام ہے۔(محمد دائود اسلامی جمہوریہ ایران پر لکھے جانے والے سفر نامہ تہذیب کاسفر کے مصنف ہیں )







