ریڈیو اور اے آئی 

تحریر: اکرام اللہ مروت , حامد اللہ خان
ریڈیو کا عالمی دن ہر سال 13 فروری کو اس مقصد کے تحت منایا جاتا ہے کہ مواصلاتی نظام میں ماں کی حیثیت رکھنے والے اس ذریعہء مواصلات کے کردار اور آج کے دور میں اس کی اہمیت کو اجاگر کیا جاسکے۔ مواصلات میں ہائے روز ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے سے جہاں دنیا اس میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے وہاں پاکستان میں باقی ترقیافتہ دنیا کے بر عکس یہاں حکومتی توجہ کم ہو نے کی وجہ سے وطنِ عزیز کا ریڈیو کے میدان میں سب سے بڑا نیٹ ورک یعنی ریڈیو پاکستان کی صو رتحال وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہو تی جا رہی ہے۔ہر سال اس دن کو ایک تھیم دیا جاتا ہے اور وہ اسلئے کہ ریڈیو مختلف میدانوں میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہا ہے غرض یہ کہ شاہد ہی کو ئی ایسا موضوع ہو جس میں ریڈیو نے اپنی خدمات سامعین کی نذر نہ کی ہو۔خواہ  وہ قدرتی آفات ہو، تعلیم کا میدان ہو، صحت ہو، خواتین کی ترقی، کھیل کا میدان ہو یا پھر ہر علاقے کی ثقافت کی ترویج ہو وغیرہ ریڈیو نے ہر موضوع کے ہر پہلو کو ہمیشہ بہترین انداز میں مختلف ریڈیو فارمیٹس کے ساتھ پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ دوسری بڑی کامیابی ریڈیو کی یہ ہے کہ آج کے جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی جہاں باقی ذرائع ابلاغ کی رسائی ممکن نہیں ریڈیو اپنی نشریات بہترین انداز میں پہنچا رہا ہے اور وہ بھی باقی ذرائع ابلاغ کی نسبت انتہائی کم اخراجات میں۔
جیسا کہ آ پ سب کو معلوم ہے کہ ٹیکنالوجی ترقی کی وجہ سے پوری دنیا اس وقت اے آئی میں آگے بڑھنے کی کوششوں میں ہے۔ورلڈ ریڈیو ڈے 2026، جو آج پاکستان سمیت  پوری دنیا میں منایا جا رہاہے،  اس سال  ورلڈ ریڈیو ڈے  کا تھیم ”ریڈیو اور اے آئی’ پر مرکوز ہے۔ یہ تھیم موجودہ ترقیاتی دور میں مواصلات کے میدان میں ریڈیو کو دوسرے ذرائعے ابلاغ کیساتھ شانہ بشانہ اور کندھے سے کندھا ملا کر  چلنےکے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ جو بروقت اور صحیح معلومات پھیلانے، پائیدار طریقوں کو فروغ دینے، اور کمیونٹیز کو حالات حاضرہ کے مباحثوں میں  شامل کرنے میں ریڈیو کے اہم کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ اے آئی سے متعلق بیداری اور متاّثر کن کارروائی کے لیے ریڈیو ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ یہ تصدیق شدہ معلومات کے اشتراک، مکالمے کے فروغ  اور ماحولیاتی پائیداری کی وکالت کرنے والی آوازوں کو بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ڈیجیٹل انقلاب اور سٹریمنگ پلیٹ فارمز، سوشل میڈیا اور پوڈ کاسٹ کے عروج کے باوجود  ریڈیو براڈکاسٹنگ آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہاہے۔ریڈیو پر بروقت خبریں، موسم، ٹریفک اپ ڈیٹس، اور ہنگامی انتباہات فراہم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ قدرتی آفات جیسے بحرانوں کے دوران، ریڈیو اکثر ان کمیونٹیز تک اہم معلومات پہنچانے کا سب سے زیادہ قابل اعتماد اور تیز ترین ذریعہ ہوتا ہے جن کو انٹرنیٹ یا میڈیا کی دوسری شکلوں تک رسائی حاصل نہیں ہوتی ہے۔ریڈیو پاکستان پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک قومی نشریاتی ادارے کے طور پر، یہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سمیت ماحولیاتی مسائل پر عوام کو آگاہ کرنے، تعلیم دینے اور مشغول کرنے کے لیے ایک ضروری پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔  اس کے علاوہ، یہ مقامی اور قومی گرین اقدامات، جیسے درخت لگانے کی مہم، قابل تجدید توانائی کے منصوبے، اور تحفظ کی کوششوں کے فروغ کی بھی حمایت کرتا ہے۔ ان کوششوں کو نشر کرکے یہ شہریوں کو ماحولیاتی تحفظ میں حصہ لینے کی ترغیب دیتا ہے۔
ریڈیو براڈکاسٹنگ مختلف شعبوں میں بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہاں کچھ قابل ذکر تحقیقی مضامین ہیں جو اس کردار کو دریافت کرتے ہیں. جوئل اوڈونڈی نے کمیونٹی بیداری میں ریڈیو براڈکاسٹنگ کے کردار پر ایک تحقیق کی، یہ مطالعہ اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ کس طرح ریڈیو ایک اہم مواصلاتی ذریعے کے طور پر کام کرتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، معلومات کو پھیلانے اور کمیونٹی کی مصروفیت کو فروغ دینے کے لیے یہ تحقیق معلومات کی رکاوٹوں پر قابو پانے اور بیداری کو فروغ دینے میں ریڈیو کی تاثیر کو ظاہر کرتی ہے۔شوچی سریواستو نے 2022 میں کمیونٹی ریڈیو پر ایک تحقیق کی  بیداری اور بااختیار بنانے کے لیے ایک ابھرتا ہوا پلیٹ فارم”یہ تحقیق پسماندہ کمیونٹیز، خاص طور پر ہندوستان میں سہاریہ قبیلے کو حساس اور بااختیار بنانے میں کمیونٹی ریڈیو کے اثرات پر مرکوز ہے۔  جس میں بااختیار بنانے میں شراکتی مواصلات کے کردار کی نشاندہی کی گئی ہے۔ڈاکٹر نبی بخش جمانی تحقیقی مضمون  پاکستان میں  دہی تعلیم میں ریڈیو کے کردار  جس میں، پاکستان میں دیہی تعلیم کے لیے ریڈیو کی مؤثریت پر لکھتے ہیں کہ ریڈیو کی نشریات کو دور دراز کے علاقوں میں تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جس کی بدولت  دیہی آبادیوں میں خواندگی اور شرح تعلیم میں  کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ریڈیو براڈکاسٹنگ پر حالیہ لٹریچر کی تلاش اس میڈیم کے ارتقا ء اور اثرات کے بارے میں قیمتی بصیرت پیش کرتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں شائع ہونے والی چند قابل ذکر کتابیں یہ ہیں۔ جیسا کہ شان اسٹریٹ نے ایک کتاب لکھی ہے۔وائلڈ ٹریک، ساونڈ ٹیکسٹ اینڈ ائیڈیا اف  برڈسونگ، یہ کتاب  2023 میں شائع ہوئی جو آواز، متن اور پرندوں کے سونگ کے تصور کو تلاش کرتی ہے، قدرتی آوازوں کو پہنچانے میں ریڈیو کے کردار پر ایک منفرد نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔دوسری کتاب ریڈیو سکینڈ سنچری  جان ایلن ہینڈرکس اس کتاب کے ایڈیٹر ہیں۔ یہ 2020 میں شائع ہوا  یہ کتاب اس کی سوویں سالگرہ کے موقع پر نشریات کی حیثیت کا جائزہ لیتی ہے، جو ریڈیو کے ماضی، حال اور مستقبل سے متعلق  موضوعات  پر مبنی ہے۔ 2020 میں ریڈیو براڈکاسٹنگ: اے ہسٹری آف دی ایئر ویوز جو گورڈن باتھ گیٹ  نے یہ کتاب لکھی ہے۔ جس میں ریڈیو براڈکاسٹنگ کی جامع تاریخ  اس کے ارتقاء کی کھوج اور قابل ذکر براڈکاسٹر جنہوں نے صنعت کو تشکیل دیا ہے’جیسے موضوعات  کو قلم بند کیا گیا ہے۔ ریڈیو براڈکاسٹینگ پر لکھی گئی کتابیں متنوع نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخی ترقی سے لے کر سمعی تجربات کی تشکیل ریڈیو کے کردار تک کے معلومات کو فراہم کرتی ہیں۔
ریڈیو پاکستان پشاور کی تاریخ پر اگر بات کی جائے تو سال 1931میں ممتاز ماہرِ تعلیم اور اسلامیہ کالج پشاور کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے والے صاحبزادہ عبدالقیوم خان جب گول میز کانفرنس میں اس وقت کی  صوبہ سرحد کی نمائندگی کرنے  کی غرض سے لندن گئے تھے تو وہاں انکی نظر ریڈیو سیٹ پر پڑی جو اس زمانے میں ایک عجوبے سے کم نہ تھا۔ صاحبزادہ عبدالقیوم خان نے لندن میں مارکونی سے ملاقات کی اور اس دوران انہوں نے مارکونی سے درخواست کی کہ وہ ریڈیو ٹرانسمیٹر کو اس وقت کے صوبہ  سرحد میں نصب کر کے ریڈیو کی نشریات کو یہاں تک وسعت دیں۔مارکونی نے  صاحبزادہ عبدالقیوم خان سے ایک ٹرانسمیٹر فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ چند سال بعد سال 1935میں مارکونی نے اپنے وعدے کو ایفا کرتے ہوئے صاحبزادہ عبدالقیوم خان کو ایک ٹرانسمیٹر بمعہ  30ریڈیو سیٹس فراہم کیا (وہ ٹرانسمیٹرکچھ عرصہ پہلے ((2024  تک اپنی اصلی حالت میں موجود تھا لیکن سال 2024میں اسے بد قسمتی سے ایک نیلامی میں عام کباڑ کے ساتھ کباڑ یوں کی نظر کیا گیا)۔ جس سے 6مارچ 1935کو سیکریٹیریٹ کے ایک چھوٹے سےکمرے میں نصب کیا گیاتھا اور  فراہم کردہ ریڈیو سیٹس کو  صاحبزادہ عبدالقیوم خان نے خوانین میں تقسیم کیا جنہوں نے ان سیٹس کو اپنے اپنے حجروں میں رکھا جہاں شام کے وقت پورا دن کام کر کے تھکے ہارے کسان وغیرہ ان حجروں میں جا کر ریڈیو نشریات سنا کرتے تھے  اور ریڈیو اس علاقے میں پہلا اورواحد ذریعہ ابلاغ تھا جو عوام کو معلومات، تعلیم اور تفریح  ایک ساتھ فراہم کرتا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ریڈیو کو تمام میڈیمز کی ماں کا درجہ حاصل ہے۔16 جولائی 1942 کو اس ٹرانسمیٹر کو براڈکاسٹنگ ہاوس  پشاورمیں شفٹ کیا گیا جہاں اب سپریم کورٹ کا ایک برانچ کا م کر رہا ہے۔علاقے میں ریڈیو پاکستان پشاور کی بڑھتی ہوئی اہمیت  اور لوگوں کی دلچسپی کے پیشِ نظر،عوام کے مطالبے پر ریڈیو پشاور کو مزید وسعت دینے کیلئے سال 1985میں ایک بہت بڑی براڈ کاسٹنگ ہاوس کی عمارت تعمیر کی گئی جو تین حصوں پر مشتعمل تھا ایک 4منزلہ دفتری عمارت، ایک ہال جسے صاحبزادہ  عبدالقیوم خان آڈیٹوریئم کا نام دیا گیا اور 6اسٹوڈیوز پر مشتعمل سٹوڈیو ہاوس۔ جہاں ایک اسٹوڈیو میں سال 2002 میں ایف ایم 101کا بھی آغاز کیا گیا۔ایک اسٹوڈیو میوزک، ایک کو ڈرامہ، ایک کو  فیچر،  ٹاک۔1اور ایک اسٹوڈیو کو ٹاک۔2کا نام دیا گیا۔جس کا افتتاح اس وقت کے صدرِ پاکستان ضیاء الحق(مرحوم) نے کیا تھا۔یہ وہ براڈ کاسٹنگ ہاوس ہے جہاں 13اور14اگست کی درمیانی شب جب پا کستان آزاد مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔تو یہاں سے اردو میں آفتاب احمد نے جبکہ عبداللہ جان مغموم نے پشتو میں آزادی کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ (اس سے پہلے یہ آل انڈیا ریڈیو تھا)۔ اور اسکے بعد احمد ندیم قاسمی کا یہ نغمہ نشر کیا گیا  پاکستان بنانے والے پاکستان مبارک ہو۔
10 مئی کوتقریباً آٹھ دہائیوں تک اس علاقے کی عوام کی خدمت کرنے والے اس ادارے کو مشتعل عوام نے خاموش کیا۔ پوری عمارت آگ کی نظر تو ہو گئی برقی تاریں جل گئیں اور چند لمحوں کیلئے اسکی آواز خاموش  کر دی گئی۔  لیکن اس ادارے سے وابستہ عملے نے  اپنی جان پر کھیل کر26گھنٹوں کے اندر اندر نشریات کو دوبارہ بحال کیا۔ اور شعبہ پروگرام اور شعبہ انجنیئرنگ  نے ملکر اپنے پروگرامز سامعین کے کانوں تک پہنچائے جن میں کرکیلہ 6:15pm جبکہ  ہندارہ 7:05pm جو کہ فلیگ شپ پروگرامز ہیں راقم الحروف نے طفیل احمد پروگرام منیجر  کی نگرانی میں نشریات بحال ہونے کے بعد فوراً نشر کئے جبکہ ایف ایم کی نشریات پروگرام منیجر حبیب النبی اور سردار اعظم خان پروڈیوسر نے  آن ائیر کئے  اور نشریات کو سٹریمنگ کے ذریعے ہائی پاور ٹرانسمیٹرتک منتقل کرنا شروع کیا۔ جو خراج تحسین کے لائق ہیں۔واضح رہے کہ یہاں پر انسٹال تقریباً تمام نشریاتی آلات جاپان اور انگلینڈ میڈ ہیں جن میں Eddystoneاور NECکمپنی کے آلات زیادہ تر شامل ہیں۔
ریڈیو پاکستان پشاور سے وابستہ رہنے والے اہم ناموں میں قوی خان، فردوس جمال، حمزہ بابا، اجمل خٹک، طہٰ خان، خاطر غزنوی، پطرس بخاری، گلناربیگم، قمرو جان، شمشاد بیگم، چشتی چمن جان، زیتون بانو، یونس قیاسی، خیال محمد، ساحر آفریدی، زرسانگہ، فضلِ ربی، فرزانہ، غازی سیال، معشوق سلطانہ اور دیگر شامل ہیں۔
ریڈیو پاکستان پشاورکے پہلے اسٹیشن ڈائریکٹر اسلم خان خٹک تھے جو کہ اس وقت اس عہدے کا نام آفیسر انچارج تھا۔  باقی اسٹیشن ڈائریکٹرز کے اہم ناموں میں سے  ایس ایس نیازی، نون میم راشد، قاضی احمد سعید، یوسف بنگش، قاضی غلام سرور، محبوب علی خان، ارباب راشد خان، حمید اصغر، عمر ناصر، فقیر حسین ساحر، نثارمحمد خان، فضلِ مولا، غلام عباس، نورالبصر، سردار علی، لیاقت سیماب، عارف اللہ خان، عطاء الاکبر، سرفراز خان، لائق زادہ لائق، عنایت اللہ ضیاء، فیاض بلوچ جبکہ پہلی خاتون اسٹیشن ڈائریکٹر عفت جبار شامل ہیں۔اس وقت ریڈیو پاکستان پشاور کا اسٹیشن ڈائریکٹر جناب طفیل احمد ہیں جو ریڈیو پروگرامز کو ہیڈ کوارٹرز کی ہدایات کے تحت سوشل میڈیا پر بھی منتقل کرنے کی کامیاب کوششیں کر چکے ہیں جن میں پشتو پروگرام حجرہ، خیبر بیٹس، فرام دی کیمپس اور سلامونہ پیغامونہ قابل ذکر ہیں اور سامعین و ناظرین  کی طرف سے ان پروگرامز کو کافی پذیرائی مل رہی ہے۔ اور ان ساری کامیابیوں کے پیچھے ریڈیو پاکستان کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل جناب سعید احمد شیخ اور ڈائریکٹر پروگرامز محترمہ مسرت شاہ رخ کا پیشہ وارانہ ساتھ شامل ہے جو ریڈیو پاکستان کو ایک باوقار ادارہ بنانے میں تمام اسٹیشنز کیساتھ  شب و روز پیش پیش ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed