مسلمان اور ویلنٹائن ڈے

 

تحریر ۔ اکرام اللہ بنگش

ویلنٹائن ڈے کی ابتدا سے متعلق بہت سی باتیں مشہور ہیں ۔ انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا کے مطابق اس دن کا تعلق قدیم بت پرستوں ( رومیوں) کے ایک دیوتا کے مشرکانہ تہوار سے ہے ۔ یہ تہوار ہر سال فروری کے وسط میں منایا جاتا ہے ۔ اس تہوار میں کنواری لڑکیاں محبت کے خطوط لکھ کر ایک بہت بڑے گلدان میں ڈال دیتی ہیں ۔ اس کے بعد محبت کی لاٹری میں سے روم کے نوجوان لڑکے ان لڑکیوں کا انتخاب کرتے ہیں ۔ جن کے نام کا خط لاٹری میں آیا ہوتا پھر وہ نوجوان لڑکے لڑکیاں شادی سے پہلے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ملاقاتیں کرتے ۔ عیسائیوں کے مذہبی رہنماوں نے اس مشہور بت پرستانہ رسم کو ختم کرنے کی بجائے اسے عیسائی لبادہ اوڑھانے کے لیے ایک پادری سینٹ ویلنٹائن کے تہوار میں بدل دیا ۔ سینٹ ویلنٹائن وہ پادری ہے جسے شاہکلاڈیس نے اس جرم میں قتک کروا دیا تھا کہ وہ ایسے فوجیوں کی خفیہ طور پر شادیاں کروایا کرتا تھا جنہیں شادیوں کی اجازت نہ تھی ۔ سزا کے دوران قید کے زمانے میں ویلنٹائن جیلر کی اندھی بیٹی پر عاشق ہوگیا ۔ سزا پر عملدرآمد سے پہلے اپنی محبوبہ کو اخری خط لکھا جس کے آخر میں دستخط کے طور پر فراہم یورپ ویلنٹائن تحریر کیا ۔ یہ طریقہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رواج پا گیا ۔ بعض لوگ اس دن کو رومیوں کے محبت کے دیوتا کیوپڈ سے متعلق سمجھتے ہیں ۔ اس کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ یہ لوگوں کے دلوں میں تیر مار کر انہیں عشق میں مبتلا کرتا ہے ۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ محبت کی دیوی Venus کا پسندیدہ پھول گلاب ہے ۔ اسلام دین فطرت ہے ۔ محبت انسانی فطرت کا تقاضا ہے ۔ اسلام انسان کو محبت احترام حیا اور پاکیزگی کا درس دیتا ہے ۔ تاہم اسلام محبت کے اظہار کے لیے ایسی حدود و قیود مقرر کرتا ہے جو انسان کی عزت معاشرے کی پاکیزگی اور خاندانی نظام کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں ۔ محبت اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہو ۔ ارشاد ربانی کے تحت والد والدہ بھائیوں بہنوں بیوی اولاد اور نیک لوگوں سے ہو ۔ بدقسمتی سے ویلنٹائن نے مسلم معاشرے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اس دن سرخ کپڑے پہننا ویلنٹائن کارڈ دل سرخ گلاب اور چاکلیٹ کے تحائف بھیجنا عام بات ہوتی جا رہی ہے ۔ پاکستانی میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ کالج یونیورسٹیاں حتیٰ کہ سکول بھی اس مخلوط پارٹیوں کا انتظام کرواتے ہیں ۔ عشق و محبت کی اس دوڑ میں اپنے مذہب تہزیب اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے ۔  ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو جس قوم کی مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے  ۔ اسلام محبت کو صرف وقتی جزبات یا ظاہری کشش تک محدود نہیں کرتا بلکہ اسے نکاح جیسے مقدس بندھن کے ذریعے دوام بخشنا ہے ۔ شوہر اور بیوی کے درمیان محبت والدین کی تابعداری معاشرے کے بزرگوں کی عزت واحترام اور چھوٹوں سے بے گناہ پیار سنہرے اسلامی اقدار ہیں ۔ ان کی حفاظت ہی رشتوں کی مضبوطی کی ضامن ہے ۔ غیروں کی بے جا تقلید سے بہتر ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی اعلیٰ روایات اور احکام الٰہی سے جڑے رہیں ۔ آنے والوں دنوں میں اپنے بچوں کو اس غیر اسلامی تہوار سے دور رکھیں ۔ اسی میں ہی دین و دنیا کی بھلائی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed