ایران میں بدامنی اور عالمی ضمیر کا امتحان

ایران میں حالیہ منظم بدامنی اور تشدد کے واقعات نے ایک بار پھر عالمی سیاست کے اس تلخ پہلو کو بے نقاب کر دیا ہے جہاں خودمختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو طاقت اور مفادات کے نام پر جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ جنوری کے اوائل میں ایران میں پیش آنے والے واقعات محض وقتی یا اچانک عوامی ردعمل نہیں تھے بلکہ ایسا نظر آتا ہے کہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھے جس کا مقصد جائز معاشی احتجاج کو بدامنی اور دہشت گردی میں تبدیل کرنا تھا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ 8 سے 10 جنوری کے دوران ہونے والی پرتشدد کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ احتجاجی ماحول کو دانستہ طور پر ہائی جیک کیا گیا۔ شہریوں سکیورٹی فورسز اور عوامی تنصیبات پر حملے کسی بھی طور پر پرامن احتجاج کے زمرے میں نہیں آتے۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں احتجاج اور دہشت گردی کے درمیان لکیر واضح ہو جاتی ہے اور بین الاقوامی قانون اس طرح کے اقدامات کو سنگین جرم تصور کرتا ہے۔ان واقعات کا پس منظر بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی دھمکیوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اس حوالے سے تہران کا موقف ہے کہ یہ بیانات اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی تھے اور اسی ماحول میں امریکا اور اسرائیل کی حمایت یافتہ عناصر نے احتجاج کو بدامنی میں بدلنے کی کوشش کی۔ ایرانی حکام اور وزیر خارجہ کے مطابق اس کا مقصد واضح تھا! داخلی انتشار پیدا کر کے بیرونی دبا ئواور جارحیت کی راہ ہموار کرنا۔بدامنی کے نتیجے میں مساجد تعلیمی اداروں ہسپتالوں بینکوں بجلی کے مراکز اور دیگر عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچا جبکہ عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس پیمانے کی تباہی کسی وقتی غصے کا اظہار نہیں بلکہ ایک منظم منصوبے کی نشاندہی کرتی ہے جس کا مقصد خوف پھیلانا اور ریاستی نظم کو کمزور کرنا تھا۔ایران ان واقعات کو امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کے دوہرے معیار سے جوڑتا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف بیانات دیئے جاتے ہیں تو دوسری جانب مجاہدین خلق (MKO)َََََََََََََََََََََََََََََََََ جیسے گروہوں کو سیاسی و اخلاقی سہولت فراہم کی جاتی ہے جن کے ہاتھ ہزاروں ایرانی شہریوں کے خون سے رنگے ہیں۔ اسی طرح اسرائیلی ریاست کے خطے میں اقدامات کو بھی اکثر احتساب سے بالاتر رکھا جاتا ہے یہاں تک اقوام متحدہ بھی اس باز پرس نہیں کرتا اگر ایرانی حکام نے کا کہنا ہے کہ وہ پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے۔ دسمبر 2025 میں شروع ہونے والے احتجاجات کی بنیاد معاشی مشکلات اور اصلاحی اقدامات پر تحفظات تھے مگر ان مشکلات کی جڑیں بھی یکطرفہ امریکی پابندیوں میں پیوست ہیں۔ یہ پابندیاں نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کرتی ہیں جس سے عدم استحکام کو تقویت ملتی ہے۔ایران کا موقف ہے کہ حالیہ واقعات دیگر ممالک کے لیے بھی ایک وارننگ ہیں۔ یکطرفہ معاشی پابندیاں صرف ایک ملک کو نہیں بلکہ پورے عالمی نظام کو غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔ آج اگر ایران نشانہ ہے تو کل کوئی اور ملک بھی ہو سکتا ہے۔ جب تک عالمی برادری اس طرز عمل کے خلاف اجتماعی موقف اختیار نہیں کرتی کوئی بھی ریاست خود کو محفوظ نہیں سمجھ سکتی۔ اس لئے یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ عالمی ضمیر کب بیدار ہوگا؟ کب بین الاقوامی قانون کو طاقتور ممالک کے مفادات سے آزاد کر کے حقیقی معنوں میں خودمختاری اور انصاف کا ضامن بنایا جائے گا؟ ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کے تحت جوابدہ ٹھہرانے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور تمام قانونی فورمز پر اس جدوجہد کو جاری رکھے گا۔ یہی جدوجہد دراصل اس اصول کی آزمائش ہے کہ کیا دنیا واقعی قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے یا نہیں اب دیکھنا ہو گا کہ عالمی برادری کس حد تک امریکہ ہٹ دھرمی کے خلاف ایران کا ساتھ دیتی ہیں یا پھر اس کی جانب سے دیگر حکومتوں میں کارروائیوں کا سلسلہ مزید جاری رہے گی جس سے خطے میںحالات مزید خراب ہو نے کا خدشہ ہے ۔md.daud78@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed