دہشت گردی کے خلاف اہم کامیابیاں

بنوں میں پولیس کی بروقت اور پیشہ ورانہ کارروائی کے نتیجے میں ایک اور بڑے دہشت گردی کے منصوبے کو ناکام بنایا جانا قابل تحسین ضرور ہے مگر یہ سوال بھی جنم دیتا ہے کہ آخر ایسے منصوبے مسلسل کیوں بن رہے ہیں اور دہشت گرد عناصر کو بار بار موقع کیسے مل رہا ہے؟تھانہ بسیہ خیل کی حدود میں ایک سلنڈر کے اندر نصب پانچ کلوگرام وزنی بارودی مواد کی برآمدگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کا ہدف عام شہری، سکیورٹی فورسز اور حساس مقامات ہو سکتے تھے۔ اگر یہ بم بروقت ناکارہ نہ بنایا جاتا تو اس کے نتائج نہایت خوفناک ہو سکتے تھے جن میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع خوف و ہراس کی فضا اور امن و امان کی مزید خراب صورتحال شامل ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی پیشہ ورانہ مہارت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ اگر ادارے الرٹ ہوں تو بڑے سے بڑا خطرہ بھی ٹالا جا سکتا ہے۔یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے ایک روز قبل تھانہ ڈومیل کی حدود میں عیدگاہ روڈ پر تین کلوگرام وزنی ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم کی برآمدگی نے خطرے کی گھنٹی بجادی تھی۔ عیدگاہ جیسے مذہبی اور عوامی اجتماع کے مقام کے قریب بارودی مواد کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دہشت گرد عناصر نہ صرف انسانی جانوں کے دشمن ہیں بلکہ مذہبی جذبات کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرتے۔ یہ عمل معاشرتی ہم آہنگی اور امن کو سبوتاژ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ایسے واقعات کے تناظر میں پولیس اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی یقینا قابل تعریف ہے۔ بروقت اطلاع، فوری ردعمل اور سرچ آپریشن اس بات کا ثبوت ہیں کہ زمینی سطح پر فورسز متحرک ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف ردعمل تک محدود رہیں گے یا دہشت گردی کے اس ناسور کی جڑوں تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش بھی کی جائے گی؟جنوبی اضلاع، خصوصا بنوں لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان، ماضی میں بھی دہشت گردی سے شدید متاثر رہے ہیں۔ سرحدی صورتحال، سماجی و معاشی محرومیاں، بے روزگاری اور کمزور انٹیلی جنس نیٹ ورک ایسے عوامل ہیں جو شدت پسند عناصر کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف بم ناکارہ بنانے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ ان نیٹ ورکس کا سراغ لگایا جائے جو اسلحہ بارودی مواد اور سہولت کاری فراہم کر رہے ہیں۔عوام کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ مشکوک سرگرمیوں یا اشیا کی بروقت اطلاع ہی کئی جانیں بچا سکتی ہے جیسا کہ عیدگاہ روڈ کے واقعے میں ہوا۔ عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گرد عناصر کے لیے زمین تنگ کی جا سکے۔حکومت خیبر پختونخوا اور وفاقی اداروں کو چاہیے کہ جنوبی اضلاع کے لیے جامع سکیورٹی پالیسی مرتب کریں جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور انتہا پسندی کے خلاف فکری محاذ شامل ہو۔ دہشت گردی صرف بندوق سے نہیں بلکہ سوچ سے بھی جنم لیتی ہے اور اس سوچ کا مقابلہ تعلیم، آگاہی اور انصاف سے ہی ممکن ہے۔اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بنوں میں تباہی کے منصوبوں کا ناکام ہونا ایک وقتی کامیابی ضرور ہے مگر اصل کامیابی اس دن ہوگی جب ایسے منصوبے بننے ہی بند ہو جائیں۔ اس کے لیے ریاست اداروں اور عوام سب کو مل کر ایک طویل اور سنجیدہ جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ خطہ ایک بار پھر امن ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہو سکے۔md.daud78@gmail.com

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed