انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے ملازمین چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے رسک الائونس میں اضافے کا مطالبہ کردیا ۔ 2011 سے اب تک رسک الائونس میں ایک روپے کا اضافہ نہیں ہوا تاحال ملازمین رسک الانس میں اضافے کے منتظر ہے ، ملازمین کا کہنا ہے کہ محکمہ انسداد دہشت گردی کے ملازمین ، اے ٹی سی کورٹس کے پبلک پراسیکیوٹرز اور اے ٹی سی کورٹس کے جوڈیشل افسران کے رسک الانس میں اضافہ ہوتا رہا لیکن اے ٹی سی کورٹس کے ملازمین کے رسک الانس میں 14 سال سے کوئی اضافہ نہیں ہوا ، ملازمین کے مطابق 2011 میں پشاور ہائیکورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس دوست محمد نے اے ٹی سی کورٹ کے ملازمین کے لیے رسک الانس مقرر کیا تھا تاہم 2011 اب تک مذکورہ رسک الانس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ، ملازمین کا کہنا ہے کہ اس وقت صوبے میں 13 انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں موجود ہیں جن میں سینکڑوں ملازمین اپنے خدمات سر انجام دے رہے ہیں ، ملازمین نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ایس ایم عتیق شاہ اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے مطالبہ کیا ہے اے ٹی سی کورٹس کے ملازمین کے رسک الانس میں اضافہ کریں ۔







