پشاور ہائیکورٹ نے سرکاری عمارتوں اور سرکاری گاڑیوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں کے استعمال کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ۔رٹ کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔درخواست گزار ڈاکٹر ارشدریحان کی جانب سے سجید آفریدی اور طارق افغان ایڈوکیٹس عدالت میں پیش ہوئے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری عمارتوں، دفاتر اور سرکاری گاڑیوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے یا علامات آویزاں کرنا پاکستان فلیگ رولز 1989 اور 2025 کی خلاف ورزی ہے، اور یہ عمل آئینِ پاکستان میں دی گئی برابری، ریاست سے وفاداری اور غیر جانبدار حکمرانی کی ضمانتوں کے منافی ہے۔ اس طرح کے اقدامات ریاستی اداروں کی غیر جانبداری کو متاثر کرتے ہیں اور عوام میں یہ تاثر پیدا کرتے ہیں کہ ریاست کسی خاص سیاسی جماعت کی نمائندہ بن گئی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سرکاری املاک اور وسائل پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈوں اور نشانات کے استعمال کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے، اور یہ حکم دیا جائے کہ سرکاری عمارتوں اور سرکاری گاڑیوں پر صرف اور صرف قومی پرچم ہی آویزاں کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ پاکستان فلیگ رولز میں طے ہے۔عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلی







