پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امین الرحمان یوسفزئی نے کہاہے کہ لائزپروٹیکشن ایکٹ کا عملی نفاذ موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے ،وکلاء کو اپنی صفوں میں اتحاد واتفاق پیدا کرناہوگا، 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کمزور بنایاگیا،چارسدہ میں نوجوان وکیل عاصم ایڈووکیٹ کے قتل میںملوث ایس ایچ او کی وکالت کرنیوالے وکیل کا ہائیکورٹ میں داخلہ بند کیاجائے ، ان خیالات کا اظہار وہ گزشتہ روز آل خیبر پختونخوا لائرز جنرل باڈی کنونشن کے خطاب میں کررہے تھے ، کنونشن میں خیبر پختونخوا کونسل کے ممبران،ڈسڑکٹ بارپشاور کے صدر قیصر زمان ایڈووکیٹ سمیت صوبہ کے اضلاع وتحصیل کے صدوراوررہنمائوں سمیت کثیر تعداد میں وکلاء نے شرکت کی۔ اس موقع پر پشاور ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کے زیر اہتمام کنونشن سے خطا ب کرتے ہوئے پشاورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امین الرحمان یوسفزئی نے صوبہ بھر سے کنونشن میں شریک ہونے والے وکلاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وکلاء معاشرے کا اہم حصہ ہیں تاہم وکلاء کو بھی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر کاربند رہناہوگا،اسی طرح وکلاء کو اپنے درمیان اتحادواتفاق پیدا کرناہوگاکیونکہ آزاد عدلیہ کیلئے وکلاء کا متحد ہونا ضروری ہے ،
جبکہ ججز کی تعیناتی شفاف اور میرٹ پر ہونی چاہیے، لیکن بدقسمتی سے 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کمزور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پر پہلے نگران مسلط کئے گئے اور اب وہی عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کررہے ہیں، جو کسی طور درست نہیں۔انہوں نے اداروں میں سیاسی مداخلت کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع کو صوبے میں ضم تو کیا گیا لیکن وہاں بدامنی اور دہشتگردی آج بھی عروج پر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضم اضلاع کو کسی تجربہ گاہ میں نہ بدلا جائے بلکہ وہاں کے عوام کو ان کے جائز حقوق فراہم کئے جائیں۔ پشاور ہائیکورٹ با ر ایسوسی ایشن صدر نے وکلا کے قتل و تشدد کے بڑھتے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز وکلا قتل ہورہے ہیں اور پولیس بھی وکلا پر تشدد میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لائرز پروٹیکشن ایکٹ پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر اس کے ذمہ دار حکومت ہوگی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وکلا کے قتل میں ملوث عناصر کو پولیس کی پشت پناہی حاصل ہے اور بعض اوقات خود پولیس قاتلوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔امین الرحمن یوسفزئی نے تیراہ میں بے گناہ افراد کی شہادت پر شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ چارسدہ میں نوجوان وکیل عاصم ایڈووکیٹ کے قتل کی مثال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مقدمے میں ملوث ایس ایچ او کی ضمانت میں پیش ہونے والے وکیل کا عدالت میں داخلہ بند کیا جائے۔دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وکلا ء سے ٹائوٹ ازم کے خاتمے اور وکلا کے خلاف واقعات میں ملوث عناصر کی عدم گرفتاری کے خلاف کنونشن میں متفقہ طور پر قراردادیں منظور ہوئیں قرار دادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ آئی جی پولیس محکمہ پولیس سے کالی بھیڑوں کو نکالیں، وکلا کے قتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے جبکہ تمام ادارے اپنی کارکردگی کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کریں دوسری جانب کنونشن میں خیبر پختونخو ا بار کونسل کے وائس چیئرمین نے آج اور کل دو روزہ مزید عدالتی کاروائی سے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور مطالبہ کیا کہ آئی جی پی کو دو دن کا وقت دیتے ہیں وکلا کے خلاف واقعات میں ملوث عناصر گرفتار کریں، وکلا کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا آئی جی پی نوٹس لے، وکلا کے واقعات میں ملوث ملزمان گرفتار کریں، ہمارے مطالبے پورے نہ ہوئے تو ہم آئی جی پی کے تبادلے کا مطالبہ کریں گے، آج اور کل صوبے بھر کے عدالتوں میں وکلا احتجاجا پیش نہیں ہونگے وائس چیئر مین کے پی بار فاروق احمد خٹک نے تمام بار ایسوسی ایشنز ز سے ٹائوٹ ازم میں ملوث وکلا کی فہرست 15دن کے اندر طلب کرلی۔







