سپریم کورٹ نے مخصوص نشستیں کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ سیاسی مسائل خود حل کریں، ججز نے اصلاحات نہیں کرنی، کیا کوئی عدالت کسی امیدوار ،سیاسی جماعت کے چھوڑے خلا کو پر، فریقین کی غلطیوں کو دور کر سکتی ہے؟،عدالت کو شنوائی کا حق دے رہی ہے تو مطلب یہ نہیں آپ کچھ بھی کہتے جائیں،اگلے انتخابات کی تیاری کریں۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں بارے کیس پر سماعت کی ۔پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دینے شروع کئے تو جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جتنی باتیں آپ آج کر رہے وہ مرکزی کیس میں کرنی تھیں، مرکزی کیس میں آپ نے کہا نشستیں ان کو دے دو، 2018کے اخبارات کا کارٹون یاد آیا، ایک رنگ میں 2ریسلرز تھے ان میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جب تک سیاسی لوگ مسائل خود حل نہیں کریں گے، ہم نہیں کرسکتے، ججز نے نظام کی اصلاحات نہیں کرنی، یہ حقائق آپ نے تو مرکزی کیس میں پیش نہیں کیے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ابھی آپ نے ایک فہرست پیش کی، جو پہلے نہیں تھی یہ فہرست پہلے کہاں تھی؟۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ ساری چیزیں ہم نے یہاں وہاں سے دیکھیں۔ ہم نے ریکارڈ خود منگوایا اور کہا غلط ہوا۔ سپریم کورٹ میں 3بینچز الیکشن مقدمات سن رہے تھے، 99فیصد مقدمات کے فیصلے آپ کے حق میں ہوئے،کل آپ کہہ رہے تھے ہم الیکشن کے دوران عدالت نہیں آسکتے تھے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کے سارے دلائل کا مرکز الیکشن کمیشن ہے، آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے ہمارے ساتھ غلط کیا۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عدالت کو 41 امیدواران کے پی ٹی آئی نہ لکھنے کہ وجہ بتانا چاہتا ہوں، الیکشن کمشنر پنجاب کا فیصلہ تھا کہ پی ٹی آئی والوں کے کاغذات منظور نہیں ہوں گے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں الیکشن کمیشن کا تو کام ہی نہیں، کاغذات نامزدگی پر فیصلہ آر اوز نے کرنا ہوتا ہے۔وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آر اوز کا بھی تاثر تھا کہ کاغذات منظور نہیں ہوں گے، ایک غیر یقینی کی صورتحال تھی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میچور سیاسی جماعتیں غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرتیں ہیں،کل آپ نے کہا 12، 14سال کے بچے گرفتار ہوتے تھے، آپ ٹافیاں دینے جاتے تھے، کسی بچے کا باپ کورٹ نہیں آیا، کوئی پریس کلپنگ نہیں دی گئی، اس قسم کا بیان ہمارے اور قوم کیلئے سرپرائز تھا۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ قوم کیلئے تو یہ سرپرائز نہیں تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلی مرتبہ ہی اس طرح کی بات کی گئی جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں اس بیان پر معذرت چاہتا ہوں۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ غلط فیصلہ نظر ثانی کا کوئی گرائونڈ نہیں ہے ۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نظر ثانی داخل کرنے والوں کے گرائونڈز کیا ہیں ، جس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ ان کا گرائونڈ ہے کہ ریلیز اس کو دیا گیا جو فریق نہیں تھا.







