تارو جبہ سے تعلق رکھنے والے خواجہ سرا شہاب عرف وفا کو درگئی میں پروگرام سے واپسی پر سر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا ‘تارو جبہ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ خواجہ سرا وفا (شہاب)کو درگئی ہری چند کے علاقہ بدرگہ میں اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک شادی کی تقریب میں پروگرام ختم کر کے واپس نکل رہے تھے تو شادی کے گھر کے ساتھ ہی گیٹ پر کلاشنکوف سے مسلح شوکت نامی شخص اور ایک نامعلوم شخص نے اغوا کرنے کی غرض سے جب ان کو اشارہ کیا تو انہوں نے اپنی گاڑی کو جب سپیڈ دی تو ان پر متذکرہ افراد نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی فائرنگ سے 28 سالہ خواجہ سرا وفا کلاشنکوف کی گولیاں سر میں لگنے سے موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ ڈرائیور نوید گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا ۔ اس سلسلے میں علاقے میں خوف و ہراس مچ گیا۔ جبکہ پولیس نے حسب روایت رپورٹ درج نامزد ملزمان شوکت اور نامعلوم افراد کے خلاف کاروائی شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں ٹرانس جینڈر لیڈر فرزانہ جان نے کہا ہے کہ انتہائی دکھ کا مقام ہے کہ ایک اور خواجہ سرا کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا اور یہ سلسلہ چلتا آرہا ہے کیونکہ کہیں پہ ہم سے بھتے وصول ہو رہے ہیں اور کہیں ہمیں گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے انہوں نے حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور ان علاقوں میں جہاں پر ان کو خطرات ہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔







