کیا پاراچنار پاکستان کا حصہ نہیں ؟

تحریر: عظمت علیزئی

پاراچنار بارش و برف باری کے دوران شدید سردی میں شہریوں کا احتجاجی دھرنا جاری ہے شہریوں نے پانچ ماہ بند آمدورفت کے راستے کھولنے تک دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے شہریوں نے پانچ ماہ سے بند مین شاہراہ سمیت آمدورفت کے راستے رمضان المبارک میں بھی بند رہنے کے خلاف پریس کلب پاراچنار کے سامنے احتجاجی دھرنا شروع کردیا ہے اور شدید سردی اور بارش و برف باری میں بھی شہریوں کا دھرنا جاری ہے اس موقع پر اپنے خطاب میں سماجی راہنماوں ملک زرتاج حسین اور مسرت بنگش کا کہنا ہے کہ کرم میں کوئی قبائیل یا فریقین کی لڑائی نہیں بلکہ حکومت عوام کے ساتھ کھیل کھیل رہی ہے جو مزید برداشت نہیں کرینگے اورراستے کھولنے تک احتجاج جاری رکھیں گے،


ضلع کرم میں پانچ ماہ سے راستوں کی بندش کے باعث لوگوں کی مشکلات بڑھ رہے ہیں بارش و برفباری کے بعد شدید سردی سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ضلع کرم کے صدر مقام پاراچنار سمیت اپر اور لوئر کرم کی 100 سے زائد دیہات کی پانچ لاکھ آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے راستوں کی بندش سے جہاں خوراک اور علاج نہ ملنے کے لیے لوگ پریشان ہیں اور رمضان المبارک کے لیے لائے جانے والے اشیا ئے خورد و نوش کو لوٹا گیا جس کے باعث لوگ رمضان المبارک سے قبل روزے رکھنے اور فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے ہیں وہاں حالیہ بارشوں اور برف باری کے لہر سے عوامی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت اور رمضان کے لیے اشیا خوردونوش کی سپلائی یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائی جائیں شہریوں نے ہیلی کاپٹر سروس دوبارہ شروع کرنے اوررمضان المبارک کے لئے اشیائے خوردونوش کی کمی پوری کرنے کے لئے مین شاہراہ عام آمدورفت کیلئے کھولنے کا مطالبہ کیا ہے دوسری جانب بگن متاثرین کا بھی مین روڈ پر احتجاجی دھرنا جاری ہے جس میں بگن متاثرین کو امدادی پیکج دینے اور علاقے کو نقصان پہنچانے والوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا جارہاہے۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کی رو سے بنکرز مسمار کیے جا رہے ہیں اب تک تقریبا ً600 بنکرز میں سے 266مسمار کیا جا چکے ہیں جبکہ مزید بنکرز کے مسماری اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے جا رہے ہیںآر پی او کوہاٹ عباس مجید مروت کا کہنا ہے کہ لوئر کرم کے علاقہ بگن اوچت مندوری اور ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف ان کی نگرانی میں آپریشن جاری ہے جس میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں سمیت تقریباً سو افراد پکڑے گئے ہیں اور ان علاقوں میں کانوائے سے لوٹا گیا خوراکی سامان اور ادویات بھی برآمد کئے گئے ۔سابق ائر مارشل سید قیصر حسین نے کہا ہے کہ نااہل صوبائی اور وفاقی حکومت پاراچنار سمیت اپر و لوئر کرم کے محصور پانچ لاکھ ابادی کے لئے مین روڈ فوری طور پر کھول کر رمضان المبارک کے لئے اشیائے خوردونوش کی ترسیل یقینی بنائیں اور کسی بڑے انسانی المیے سے قبل افغان سرحد بھی فوری طور کھول دیں ۔سابق ائرمارشل سید قیصر حسین نے میڈیا کے زریعے وزیراعظم اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے نام پیغام میں کہا ہے کہ آپ دونوں اس منصب کے لئے نااہل ہیں اس وجہ سے پاراچنار کے محصور پانچ لاکھ ابادی کو ریلیف دینے یا امدادی ہیکج دینے کی بجائے محض میڈیا کے بیانات پر اکتفا کررہے ہیں جبکہ راستوں کی بندش کے باعث لوگ خوراک و علاج نہ ملنے کے باعث مر رہے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed