شعیب جمیل
پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما ممبر قومی اسمبلی اسد قیصر، شہرام ترکئی اور صوبائی وزیر فیصل خان ترکئی اور سہیل افریدی کی عدالت میں عدم پیشی پر حفاظتی ضمانت میں مزید توسیع سے انکار کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18 فروری تک کے لئے ملتوی کردی۔ کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس صلاح الدین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی کیس کی سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزاروں کے وکیل عالم خان ادینزئی عدالت میں پیش ہوئے تاہم درخواست گزار عدالت میں پیش نہ ہوئے جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے درخواست گزاروں کے وکیل سے استفسار کیا کہ درخواست گزار عدالت میں موجود ہے؟ جس پر ان کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزار ابھی عدالت نہیں پہنچ سکے فاضل بنچ نے درخواست گزاروں کو حفاظتی ضمانت میں توسیع نہیں دی اور کیس کی سماعت 18 فروری تک کے لئے ملتوی کردی۔پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی وزیر، ارکان اسمبلی اوردیگر رہنماوں کی حفاظتی ضمانتوں میں توسیع کرتے ہوئے ان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات متعلقہ اداروں سے طلب کرلی جبکہ صوبائی وزیر فخرجہان، پی ٹی آئی رہنما علی زمان اور ملک شہاب ایڈوکیٹ کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے پر انکی درخواستیں نمٹادی گئی ہیں۔ گزشتہ روز جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس صلاح الدین پر مشتمل بنچ نے ممبر قومی اسمبلی شہریار آفریدی، داور کنڈی اور محمد نواز کی حفاظتی ضمانت اورمقدمات تفصیلات کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ انکے وکیل عالم خان ادینزئی نے عدالت کوبتایاکہ درخواست گزاروں کیخلاف مختلف مقامات پر مقدمات درج ہیں تاہم انکی تفصیلات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔ اس موقع پر پراسیکیوٹر نیب اور ایف آئی اے کے نمائندے نے عدالت کو آگاہ کیاکہ درخواست گزاروں کیخلاف نیب انکوائری ہے نہ ہی ایف آئی اے میں کوئی مقدمہ درج ہے جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایاکہ وفاقی حکومت کیجانب سے ہم آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرینگے ۔بعدازاں عدالت نے درخواست گزاروں کی حفاظتی ضمانتوں میں توسیع کرتے ہوئے ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کرلی۔ اسی طرح فاضل بنچ نے صوبائی وزیر فخرجہان، پی ٹی آئی رہنما علی زمان، ملک شہاب ایڈوکیٹ کی مقدمات تفصیلات کیلئے دائر درخواست پر سماعت کی ۔عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گزاروں کیخلاف نیب، ایف آئی اے میں کوئی انکوائری نہیں ہے جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایاکہ وفاقی حکومت نے بھی اپنی رپورٹ جمع کی ہے جس پر عدالت نے قراردیاکہ مقدمات کی رپورٹ آئی ہے تو ان درخواستوں کو نمٹا دیتے ہیں۔ عدالت نے انکی درخواستیں نمٹاتے ہوئے قراردیاکہ پنجاب میں درج مقدمات کی تفصیل چاہیے تو اس کیلئے متعلقہ عدالت سے رجوع کریں جبکہ ان درخواست گزاروں کو 6 مارچ تک حفاظتی ضمانت ب دیدی ۔







