پشاور سے تعلق رکھنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ سیاست دان حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے بارے میں کچھ غلط نہیں لکھا بلکہ وہ سمجھتے ہیں انہوں نے اپنی سوانح عمری میں ان غلطیوں کی نشان دہی کی ہے کہ جو بطور سیاست دان ان سے سرزد ہوئیں تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خاندان نے عوامی نیشنل پارٹی کے لئے قربانیاں دیں اور آج ان کا خاندان شہیدوں کا خاندان کہلانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں اپنی سوانح عمری ” میں کیوں نہیں ٹوٹا” کی تقریب رونمائی سے خطاب میں کیا۔ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے پروفیسر ڈاکٹر سہیل خان نے ان کی سوانح عمری ترتیب دی ہے ۔چائنہ ونڈو اور پاکستان اکادمی ادبیات کے زیراہتمام منعقدہ تقریب میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلیم خان، اے این پی خیبر پختون خوا کے صدر میاں افتخار حسین ، سابق وائس چانسلر ڈاکٹر نورجہاں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ انہوں نے اپنی سوانح عمری میں جہاں اپنے بچپن کی یادیں تازہ کیں وہیں اپنے خاندان اور سیاست میں قدم رکھنے سے متعلق بھی تحریر کیا ہے تاہم 1969ء میں ان کی ملاقات خان عبدالولی خان سے ہوئی اور انہوں نے نیشنل پارٹی جوائن کر لی جس کے بعد سے وہ عوامی نیشنل پارٹی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کتاب میں اپنی یاداشتیں نئی نسل کیلئے تحریر کی ہیں جس سے یہ تاثر نہیں لینا چاہئے کہ انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے خلاف لکھا ہے بلکہ پارٹی کا حصہ ہوتے ہوئے ان کے خیال میں ان کی پارٹی نے جو غلط فیصلے کئے وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے پارٹی کو نقصان پہنچا۔حاجی غلام احمد بلور جو عوامی نیشنل پارٹی کے قابل فخر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں ، وہ پشاور سے قومی اسمبلی کے رکن اوروفاقی وزیر بھی رہے۔تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں حقائق قلم بند کئے ہیں جن پر ہر کسی کا متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔

تقریب رونمائی سے خطاب میں اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ اس میں کسی شک اور شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ حاجی غلام احمد بلور کا شمار قابل فخر سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے ان کی عوامی نیشنل پارٹی کیلئے خدمات بھی لازوال ہیںان کی کتاب ان کی ذاتی اور سیاسی زندگی کا نچوڑ ہے۔انہوں نے کہا کہ حاجی غلام احمد بلور خان عبدالغفار خان اور عبدالولی خان کے پیروکار ہیںاور انہوں نے اپنی کتاب میں اپنی سیاسی زندگی میں پیش آنیوالے واقعات کا انتہائی خوبصورتی کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو عظیم قربانیاں دیں اور عدم تشدد کے فلسفے کو پروان چڑھایا یقینا وہ حاجی غلام احمد بلور کی کتاب کی صورت میں نئی نسل تک پہنچے گا۔

سوانح نگار ڈاکٹر سہیل خان نے بتایا کہ کتاب کی اشاعت میں اڑھائی برس کا عرصہ لگا اور انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ حاجی غلام احمد بلور کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر مشتمل یادیں اس کتاب کا حصہ ہوں تاہم وہ تنقید نگاروں کو بھی خوش آمدید کہیں گے۔ تقریب سے خطاب میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلیم خان، اے این پی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین ، سابق وائس چانسلر ڈاکٹر نورجہاں، اکادمی ادبیات کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر گلزار جلال،پروفیسر ڈاکٹر سمیع الدین ارمان اورسابق آئی جی پولیس سید اختر علی شاہ اظہار خیال کرتے ہوئے کتاب کی اشاعت کو موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں انتہائی اہم کاوش قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ” میں کیوں نہیں ٹوٹا” جہاں حاجی غلام احمد بلور کی سیاسی زندگی سے متعلق جاننے کا موقع ملے گا بلکہ ایک بزرگ سیاستدان کی سوانح عمری سے انہیں پاکستان کی سیاست کے بارے میں آگہی بھی ہو گی۔







