قتل مقاتلے کی دشمنی کا شاخسانہ ، لنک روڈ علی وانڈھا کے قریب 6مسلح مخالفین کی موٹرسائیکل سواروں پر فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے دونوجوان جاں بحق ، موبائل پر تلخ کلامی کے بعد 2مسلح ملزمان نے وانڈا مدت موڑ پر عدالت سے واپس آنیوالے 3افراد پر فائرنگ کر دی، 1جاں بحق جبکہ 2معجزانہ طورپر بچ گئے، الگ الگ مقدمات درج ۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ کڑی خیسور میں 53سالہ رحمانی خیل حال حکیم راغو کی رہائشی مسما نور بی بی بیوہ حسین خان نے قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت رپورٹ درج کرائی ہے کہ میں اور میرا بیٹا 21سالہ وسیم خان عرف کانڑاں گھر واقع حکیم راغو میں موجود تھے کہ میرا بیٹا نسیم خان زخمی حالت میں گھر آیا جس نے بتایا کہ وہ اور رشتہ دار 19سالہ اکرام خان ولد سید رسول سکنہ رحمانی خیل موٹرسائیکل پر رحمانی خیل سے گھر کی طرف روانہ تھے کہ ہم لنک روڈ علی وانڈھا سلسلہ پہاڑ پہنچے تو وہاں پر ملزمان فرید اللہ ولد متین خان ، اسماعیل عرف کلڈن ولد محمد نور ، گلاب ولد نوریز سکنائے رحمانی خیل ، الہیا ، ظفر بلوچ ولد نامعلوم سکنہ پھلاڑی اور ایک نامعلوم مسلح ملزمان کھڑے تھے جنہوں نے ہم پر فائرنگ کی ،ہم موٹرسائیکل سے گر گئے ،اکرام خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر جاں بحق ہوگیا،میں پیدل زخمی حالت میں گھر آیا ہوں، جس کے بعد دیگر رشتہ دار پرائیویٹ گاڑی کا بندوبست کرکے زخمی نسیم خان کو علاج کیلئے پہاڑ پور ہسپتال لے گئے جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں جاں بحق ہوگیا، وجہ تنازعہ ہماری قتل مقاتلے کی دشمنی چلی آرہی ہے، دوسرے واقعہ میں تھانہ شہید نواب میںوانڈھا ہیبتی کے 30سالہ نور علی ولد عظیم خان نے رپورٹ درج کرائی ہے کہ میں ،28سالہ بھائی مقتول اکبر علی کی عدالت پہاڑ پور میں بی بی اے کی تاریخ پیشی تھی اور رشتہ دار محمد سلیم ولد گل میر سکنہ وانڈا معظم بھی اکبر علی کے ساتھ پیشی پر عدالت پہاڑ پور گئے، پیشی کے بعد پہاڑ پور سے ڈاٹسن پرائیویٹ پر ہیبتی کیلئے روانہ ہوئے ،ڈاٹسن میں دیگر سواریاں بھی تھیں ،جب ڈاٹسن وانڈا مدت موڑ پہنچی تو ڈاٹسن کے سامنے دو ملزمان نے کھڑے ہو کر ڈاٹسن کو روک دیا، جو ملزمان ارشاد ولد مدی ، نظام الدین ولد بہرام الدین سکنائے وانڈا خانی کرونہ مسلح باکلاشنکوف تھے ،انہوں نے ہمیں ڈاٹسن سے اتار کر اپنی اپنی کلاشنکوف سے ہم پر فائرنگ کر دی، اس دوران اکبر علی فائرنگ سے لگ کر شدید زخمی ہو کر گر گیا جبکہ میں اور رشتہ دار بھاگ نکلے ملزمان بعد وقوعہ موقع سے فرار گئے، میں اور ہمراہی جب واپس آئے تو اکبر علی جاں بحق ہوچکا تھا ،وجہ تنازعہ مقتول بھائی اکبر علی اور ملزمان کا چند دن قبل موبائل فون پر تلخ کلامی ہوئی تھی۔







