بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشنکو 3 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے، وہ دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے خصوصی بات چیت کریں گے جن میں دوطرفہ تعاون اور روابط کے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بیلاروس کے صدر کے دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ صدر الیگزینڈر لوکاشنکو کی آمد سے قبل بیلاروس کا اعلی سطح کا 68 رکنی وفد اتوار کو اسلام آباد پہنچا تھا جس میں بیلاروس کے وزیر خارجہ، وزیر توانائی، وزیر انصاف، وزیر مواصلات، وزیر قدرتی وسائل، وزیر ہنگامی حالات اور سربراہ ملٹری انڈسٹری کمیٹی شامل تھے جبکہ بیلاروس کی 43 نمایاں کاروباری شخصیات بھی وفد کا حصہ ہیں۔پاکستان اور بیلاروس کے درمیان 8 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کر دیئے گئے ہیں جبکہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تجارت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم ان کی معاشی صلاحیتوں کا آئینہ دار نہیں ہے، دونوں ملکوں کو اپنے توانا شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔پیر کو پاکستانـبیلاروس بزنس فورم میں دونوں ملکوں کے بزنس ٹو بزنس 8 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے، اس موقع پر بیلاروس کے وزیر توانائی الیکسی کشنا رینکو سمیت دونوں ملکوں کی معروف کاروباری شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ پاکستانـ بیلا روس بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان بیلاروس کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری، معلومات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کا خواہاں ہے۔جام کمال خان نے کہاکہ پاکستان میں تمام اقتصادی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں اور توانائی، انفرااسٹرکچر، ٹیلی کمیونی کیشن، مینوفیکچرنگ، منرلز، آئی سی ٹی اور زراعت سمیت دیگر شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری ترجیح ہے۔انہوں نے کہاکہ بزنس ٹو بزنس 8 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی نئی راہوں کو فروغ ملے گا۔وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تمام شعبوں بالخصوص خوراک، دوا سازی، ٹیکسٹائل، لیدر، لاجسٹکس اور توانائی میں تجارت کے فروغ کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس استعداد کو بروئے کار لانے کے لیے فریقین کو ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو کم سے کم کرنے کے لیے تندہی سے کام کرنا ہوگا اور ساتھ ہی ایک دوسرے کو مارکیٹ تک بامقصد رسائی دینے کے لیے معقول درآمدی ضروریات کا خیال رکھنا ہوگا







