تحریر: وقار احمد

ماریو دراگی اپنے سکول میں ساتھی طلباکے درمیان کندذہن ہونے کی وجہ سے بیوقوف کے نام سے مشہور تھا۔سکول میں میتھس کے سبجیکٹ میں انتہائی کمزور اور عملی زندگی میں آنے کے بعد بھی مالی معالات سے دور بھاگتا تھا ۔ حساب کتاب میں بھی ہمیشہ مارکھاجاتا۔اس کے تمام ساتھی زندگی کی دوڑ میں اس سے بہت آگے نکل گئےاور وہ چھوٹی سی فرم کے ساتھ کام کرکے زندگی کا گزربسر کرنے لگا۔ وقت نے پلٹا کھایا اورسینکڑوں ساتھیوں کی شدید مخالفت اور قابلیت میں شکوک و شبہات کے باوجود وہ چھوٹے عہدوں سے ہوتاہوا یورپی مرکزی بینک کا صدر بنادیاگیا۔مالیاتی نظام میں صفر تجربہ ہونے کے باوجود اسے اتنا بڑاعہدہ ملنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑاتاہم اس نے آگے چل کر اپنی قابلیت و محنت کے ذریعے خود کو اس عہدے کیلئے فٹ ثابت کردیا۔ اس کے مثبت فیصلوں اور اقدامات نے یورپی مالی بحران کے دوران بینک کے استحکام میں انتہائی اہم کردار اداکیا اور دن بدن بڑھتے تجربے کے باعث قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کارلاتے ہوئےپوری یورپی معیشت کی سمت ہی تبدیل کر دی۔
جونسن اینڈ جونسن کے سابق سی ای او ایلکس گورسکی کو بھی کمپنی نے زبردستی مختلف عہدوں پر تعینات کیا جس پر کمپنی کے تجربہ کارافراد نے نہ صرف ان کے کام بلکہ قابلیت پر بھی کئی سوالات اٹھادیئے لیکن گورسکی نے دن رات محنت کرکے خود کو ثابت کیااورجدت طرازی ،کاروباری حکمت عملیوں کے ذریعے کمپنی کو ترقی کی پٹڑی پر چڑھادیا۔
دوسری جانب اینرون کمپنی کے سی ای اوجیفری سکرین کی بہترین قیادت اور جدید خیالات کی بدولت کمپنی ہرسال ریکارڈ پرریکارڈ بنارہی تھی ،جیفری سکرین کو کاروباری دنیا میں بہترین رہنما گردانا جاتاتھا لیکن پھر جیفری نے جعلی حسابات اور اپنی طاقت کو منفی سرگرمیوں میں لگاکرکمپنی کا دیوالیہ نکال دیا۔لوگ اس کے اچانک زوال پر دانتوں میں انگلیاں دبا کربیٹھ گئے۔اس نے دیکھتے ہی دیکھتے تمام سرمایہ کاروں کو دھوکہ دہی اور جھوٹے وعدوں کے ذریعے عرش سے فرش پر پھینک دیا اور یوں اربوں میں کھیلنے والی کمپنی کوڑیوں کی محتاج ہوگئی۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ 8 فروری کے الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ نے مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کو عوامی مینڈیٹ چھین کر زبردستی حکومت بنانے کیلئے اپنا کندھا فراہم کیا۔حقدارجماعتیں احتجاج کرتی رہ گئیں اور ان کی بھرپور مخالفت اور تحفظات کے باوجود اقتدار اٹھاکرموجودہ حکمرانوں کی جھولی میں زبردستی ڈال دیاگیا۔جیتنے والے خود حیرت میں تھے کہ راتوں رات کونسی جادوکی چھڑی چلی جس نے یقینی شکست کو جیت میں بدل دیا،امیدوار مبارکباد دینے والوں کو جلد بازی کی بجائے صبرسے کام لینے کی تلقین کرتے رہے لیکن بدلتے نتائج نے انہیں زیرو سے ہیرو بنادیا۔دوسری جانب بھرپور مزاحمت،امیدواروں کو ڈرانے دھمکانے،فیملی ممبرز کو اٹھانے،کاغذات مسترد کرنے،پارٹی نشان چھیننے اور افراتفری پھیلانے کے باوجود خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف بھاری اکثریت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔حکومتیں بنتے ہی عروج و زوال کی کہانی کا آغاز ہوگیا۔جنہیں ماریودراگی اور ایلکس گورسکی کی طرح لاٹھی سے ہانک کر زبردستی اقتدار حوالے کیا گیا انہوں نے خاموشی سے بیٹھ کر اقتدار کے مزے لوٹنے کی بجائے کارکردگی دکھانے اور عوام کی حالت بدلنے کی ٹھان لی جبکہ جنہیں تمام ترتکالیف و مصائب،پریشر اور محروم رکھنے کی کوششوں کے باوجود عوام نے اپنا نمائندہ منتخب کر کے اقتدار عزت سے حوالے کیا انہوں نے انہی عوام کے مینڈیٹ کے احترام کرنے،صوبے کو درپیش مسائل کےحل میں سنجیدگی دکھانے اورڈیلور کرنے کی بجائے احتجاج،ماراماری،دھونس دھمکی،جلاوگھیراو،سڑکوں کی بندش اور دھرنوں پر اپنی توجہ مرکوز کردی۔ جس صوبےکے عوام نے نہ چاہتے ہوئے بھی ناپسندیدہ ترین حکمرانوں کو قبول کیا آج وہ اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں اورجنہوں نے پسندیدہ حکمرانوں کو لانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگادی وہ بھی آج اپنے فیصلے پر ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حکومتوں کی حالیہ کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آئیگا۔ پنجاب کے عوام نےمریم نواز کے وزیراعلیٰ بننے پر شدید خفگی کا اظہار کیا لیکن مریم نواز نے ماریودراگی اور ایلکس گورسکی کی طرح اس تنقید،سوشل میڈیا ٹرائل اور بھرپور مخالفت کے باوجود خود کو منوانے کی ٹھان لی ،

پنجاب میں اب ہرروز کسی نہ کسی ترقیاتی پراجیکٹ کا افتتاح وزیراعلیٰ پنجاب کے ہاتھوں ہورہا ہے۔پاکستانیوں کا بنیادی مسئلہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے جس سے کافی حد تک پنجاب واسیوں کو نجات مل گئی ہے ۔ایک طرف ’’سڑکیں بحال، خوشحال پنجاب‘‘ پروگرام کے تحت پنجاب بھرکی سڑکوں کی بحالی اور تعمیرومرمت کا کام جاری ہے تو دوسری طرف خیبرپختونخوا کی حکومت سڑکیں کھودنے، توڑنے اور اکھاڑنے میں لگی ہوئی ہے۔ مریم نواز کی حکومت کی جانب سے روٹی کی قیمت میں کمی پر پنجاب کے شہری سب سے زیادہ خوش دکھائی دیتے ہیں اسکے علاوہ سولر پینل پروگرام اور 200 کلینک آن وہیلز کے منصوبے بھی عوام کی خوشی کا باعث بن رہے ہیں۔ایک سروے کے مطابق مریم نواز کی 100 روزہ کارکردگی میں ہی 55 فیصد ناقدین نے وزیراعلیٰ کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کردیاتھا۔عوام صوبے میں تعلیم ،صحت، معیشت سمیت دیگرتمام شعبوں میں مثبت تبدیلی محسوس کررہے ہیں۔ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی دوبارہ شروع کردی گئی ہے ،آٹے اور روٹی کی قیمت میں کمی آگئی، خواتین کیلئے ورچوئل تھانے قائم ہوگئے، لاہور کے دوسوسے زائد مقامات پر فری وائی فائی کی سہولت، گھر کی دہلیز پر مفت ادویات کی فراہمی، موبائل میڈیکل یونٹس کا قیام اور گزشتہ ماہ صیام کے دوران 30 ارب روپے کا رمضان پیکج دیاگیا۔ الغرض ناقدین کو وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی کارکردگی کے ذریعےشٹ اپ کال دیدی ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا میں اب تک بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا بنیادی مسئلہ ہی حل نہیں ہوسکا۔ عوام چڑھائی کردیں گے، آگ لگادیں گے ، سڑکیں بندکردیں گے، ملک بلاک کردیں گے کے چکر میں پھنس چکے ہیں۔آئے روز احتجاج کی کال نے شہریوں کو خون کے آنسو رلا دیا ہے۔ترقیاتی کاموں کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں، پنجاب جب چاہتا ہے خیبرپختونخوا پر آٹا اور بجلی بند کردیتاہے اور ہمارے وزیراعلیٰ آج تک اسلام آباد کی بجلی کا بٹن ہی نہیں ڈھونڈ پائے۔جلسے جلوسوں کی آئے روز کال نے حکمران جماعت کی مقبولیت میں کمی کردی ہے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے جیفری سکرین کی طرح پی ٹی آئی کی مقبولیت کا جنازہ نکال دیاہے۔جلسے جلوسوں ،احتجاج اوردھرنوں میں ماضی کے مقابلے میں اب شرکت کرنیوالوں کی تعدادانتہائی کم ہوچکی ہے۔ شہری احتجاج کی کال سے اکتاچکے ہیں اور اب پنجاب کی طرح سہولیات،ترقیاتی منصوبوں، مہنگائی میں کمی، بجلی و گیس کی فراوانی،امن و امان کی بحالی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی چاہتے ہیں جبکہ حکومتی ترجیحات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ایک طرف پنجاب اور سندھ میں آئے روز کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنسز کی جارہی ہیں تو دوسری طرف خیبرپختونخوا سے الزام تراشیوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ چل رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں تیسری بار حکومت بناکرصوبے کی تاریخ میں پہلی بار ہیٹ ٹرک مکمل کی ہے لیکن جن ترجیحات کے ساتھ یہ حکومت چل رہی ہے غالب امکان ہے کہ یہ اس جماعت کی صوبے میں پہلی اور آخری ہیٹ ٹرک ثابت ہوسکتی ہے







