پشاور سمیت صوبے پر اور قبائلی علاقہ جات میں 2ہزار افراد کی جائیدادیں بلیک لسٹ قرار دی جا رہی ہیں ان کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی جا رہی ہے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق دو ہزار افراد کے نام بلیک لسٹ میں شامل کیے جا چکے ہیں ان کی سروں کی قیمت ایک لاکھ روپے سے لے کر پانچ کروڑ روپے تک مقرر کی گئے ہیں یہ دو ہزار افراد دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں خیبر پختونخوا پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو مطلوب ہے اور عرصہ درازسے روپوش ہے ان میں سے بعض دہشت گرد افغانستان فرار ہو چکے ہیں ان 2۔ہزار دہشت گردوں کا تعلق صوبے کے مختلف علاقہ جات سے ہے ذرائع نے بتایا ہیں کہ ان کے قومی کارڈز۔اور پاسپورٹ بھی بلاک کی جا چکے ہیں قومی سلامتی کے فیصلوں کی روشنی میں 2ہزار سے زائد دہشت گردوں کی جائیدادوں کی تفصیلات صوبے بھر اور قبائلی علاقہ جات کے ڈپٹی کمشنرز سے طلب کی تھی ذرائع نے بتایا ہے کہ جائیدادوں کی تفصیلات کی فراہمی کی بات ان کی جائیدادوں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ان کی جائیدادوں کو بلیک لسٹ قرار دیا جا رہا ہے بلیک لسٹ قرار دی جانے کے بعد وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جائیدادوں کے خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی جائے گی







