درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لیئے کچھ کم نہ کروبیاں

تحریر: اے آر انور۔

خالق مالک رازق نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے یعنی تمام مخلوقات سے افضل اور اعلی مخلوق,انسان تمام مخلوقات سے اس لیے افضل ہے کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے کام آتا ہے۔ اس کے دل میں ایثار و قربانی کے جذبات پائے جاتے ہیں- اپنے لیے جینا کوئی مشکل نہیں۔ معاشرے میں حُسن تب ہی پیدا ہوتا ہے جب سفید پوش لوگ عزت اور بھرم کو قائم رکھ پائیں اور ضروریاتِ زندگی بھی پورا کر سکیں۔ ہمارا معاشرہ ایک مسلط کردہ دوڑ میں بغیر نفع نقصان جانے دوڑا چلا جا رہا ہے۔ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے لیکن غریب اور مظلوم کے لیے اندھا اور بہرہ اور گونگا بن جاتا ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہو کر بھی اپنے مقام سے گرتا جا رہا ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے، حالات نہیں بدل رہے۔ حالات کیسے بدلیں۔ حالات بدل نہیں سکتے جب تک ہم خود نہ بدل جائیں۔ 

تنویر آفریدی
تنویرآفریدی کا تعلق میوزک انڈسٹری کے فعال افراد میں سے ھے۔آپ برصغیر کے معروف موسیقار نثاربزمی صاحب کے شاگرد خاص ھیں۔کمپورزیش کے رموز انھیں اپنے استاد سے ملی ھے۔فولک گلوکاری میں ایک منفرد مقام اور شناخت رکھتے ھیں۔انکی خصوصیات میں سے صرف دو پر مختصر نقطہ نظر پیش کرنا چاھونگا۔

آپ نغمہ ساز گروپ کے بانی اور EMI کے Representativeھیں۔
نغمہ ساز پاکستان کے تمام صوبوں کے میوزک انڈسٹری سے وابستہ سرکردہ افراد پر مشتمل گروپ ھے جن کا تعلق سٹیج,ریڈیو,فلم,ٹیلی ویژن اور دیگر میڈیم سے ھے۔اس فہرست میں تقسیم ھند سے قبل سے دور حاضر تک انگنت تخلیق کار شامل ھیں۔جنہوں نے تاریخی اعتبار سے مذکورہ اداروں میں بنیادی کردار اصول اور طریقہ کار کا تعین کیا۔آج اس صنعت سے وابستہ عمر رسیدہ تجربہ کار اور دور حاضر کے مقبول افراد,یا جو آج ھمارے درمیان موجود نہیں انکی اولاد اس گروپ کا حصہ ھیں۔
چند ایک نام بطور حوالہ,
طافوں برادارن,امجد بوبی,ذوالفقار علی۔رشیدعطرے(فیملی) محمد حنیف (مہدی حسن فیملی) اے حمید,نفیس احمد,اظہر بھائی,شانی(ظہورذیبی)تحسین جاوید,خادم علی,اسدعلی,باقرعباس,محبوب اشرف,راحت بانو ملتانیکر(ثریا ملتانیکر)سلمان علوی,امجد علی شاہ(پی ٹی وی) اشفاق بھائی(شاداب سٹوڈیو) ادریس بھائی(ساؤنڈ)رفعت سلطان,وصال خیال(خیال محمد) محسن علی (شوکت علی) شازیہ کوثر,
اور لاتعداد دیگر جنہیں تنویر آفریدی صاحب نے شب و روز کی ان تھک محنت,تگ و دو اور تلاش کرکے ایک مرکز پر اکھٹا کیا اور اب بھی اسی جستجوں میں کوشاں رھتے ھیں۔جو کہنے کو شاید آسان لیکن کرنے کو بہت مشکل کام ھے۔
خیبر تا کراچی یہ تمام لوگ اس پلیٹ فارم کے ذریعے غم و خوشی میں ایکدوسرے کے ساتھ جڑے ھوئے رھتے ھیں۔
یہ بہت بڑیا کام ھے۔
دوسری بات:
EMI
تنویر آفریدی EMI کے Representative ھیں۔
ای ایم آئی میں دیگر مصروفیات سمیت ان کے فرائض میں شامل ھے کہ پاکستان بھر میں جن لوگوں نے اس ادارے کے ساتھ کام کیا ھے ان تک اسکی رائیلٹی چیک پہنچائے۔
یہ بھی بہت منفرد ذمہ داری ھے۔
Atv
کے پروگرام Morning with Farah میں تنویر آفریدی نے دور حاضر میں موسیقی کے صنعت سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل,تحفظات پر جدید تقاضوں کے اقدار کے مطابق برجستہ نقطہ نگاہ پیش کیا۔
تنویر آفریدی نے رائیلٹی چیک کے متعلق کہا کہ یہ حق ھے ان لوگوں کا جنہوں نے ادارے کے لیئے کام کیا۔ادارے نے بھی پیسے کمائے اور کامدار کو بھی اسکا حصہ دیاجاتا ھے۔انصاف پر مبنی یہ اچھی روش ھے۔کہ کسی کی تخلیق پر سال بھر میں جتنا بزنس ھوتا ھے اس کا ایک متعین حصہ اسی تخلیق کار کو بطور اعتراف حق اس کی دھلیز پر جاکر ادا کیا جاتاھے۔فہرست کے مطابق پاکستان کے طول و عرض میں ایسے افراد بھی شامل ھیں جن کے انتقال کو 40 یا اس سے ذیادہ عرصہ ھوچکا ھے لیکن رائیلٹی کے چیک عزت و احترام کے ساتھ ان کے گھر پر پہنچادیا جاتاھے۔اس طرح کے اقدامات سے خود اعتمادی پروان چڑھتی ھے۔خود اعتمادی ہمیں عموماً سابقہ صورت حال میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اپنے بارے کیا محسوس کرتے ہیں,ہماری اپنی قدر و منزلت ہماری اپنی سابقہ کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے- ہم اپنی عزت و منزلت کا اندازہ اس بات سے لگاتے ہیں کہ ہم نے سابقہ کام کس طرح سے سر انجام دیئے تھے اور اکثر ہم خود سے ہر لحاظ سے مکمل کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں۔ اگر ہم اپنی سی پوری کوشش نہ کریں تو ہم اپنی نظر میں اپنی قدر کھونا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے معاشرے سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو ہماری بہترین کارکردگی کو پسند کرتا ہے اور جیت اور بہترین کارکردگی پر زور دیتا ہے۔اسی نظریہ کو عملی تکمیل تنویر آفریدی کا مشن ھے۔

EMI
جیسے کتنے ادارے ھیں جن کو یہ ادراک ھے۔کہ موسیقی کی صنعت سے وابستہ تخلیق کاروں کو رائیلیٹی نہ دینا حق تلفی ھے۔تنویر آفریدی نے احسن اور مدلل حوالوں سے یہ بھی واضح کیا کہ اس سے قبل ادوار میں مقبول افراد کو سراھا جاتا جبکہ اب مشہور لوگوں کو پسند کیا جاتا ھے۔تنویر آفریدی نے کہا جب میڈیا ان لوگوں کے ھاتھ تھا جو معاشرے کے ذوق کی نشونما کرتے تھے وہ بڑے رنسپوسبل لوگ ھوتے ھیں جو کسی ملک کی میڈیا کی پالیسی بناتے ھیں کلچر کی پالیسی بناتے ھیں اور رن بھی کرتے ھیں یہی جس نے کیا,ھم سب کے بزرگ تھے بڑے وھی لوگ تھے۔ میں تسلی کے ساتھ آپ کو ایک بات سمجھاؤں مشہور اور مقبول کے درمیان فرق ختم ھوگیا ھے ھمارے دور میں مقبول لوگوں کی عزت ھوتی تھی مشہور لوگوں کی کوئی وقعت نہیں تھی آج مشہور آدمی ڈومینیڈ کر رھا ھے مقبول ھونے کی آپ کو قطعی ضرورت نہیں کیونکہ پروڈکٹ جو ھمیں اشتہار دیتا ھے ان کو نمبر آف آئی بولز چاھیئے اس کا اشتہار دیکھا جانا چاھیئے آپ معاشرے کی ایسی کی تیسی کیجیئے,آپ کی کلچر پالیسی گئی تیل لینے آپ کو صرف نمبر آف باولز جرنیٹ کرنے ھیں۔کیونکہ اب ھمارا جو کنٹینٹ ھے وہ مارکیٹنگ کا محتاج ھے ماریکیٹنگ کو رپورٹ کرتا ھے جب کنٹینٹ مارکیٹنگ کو رپورٹ کرتا ھے تو نہ اچھی شاعری بنتی ھے,نہ اچھا فنکار آتا ھے۔کیسٹس انڈسٹریز جو سال میں ساڑھے چھ سات ھزار گانے پروڈیوس کرتی تھی وہ بند ھوگئے,ٹیلی ویژن پر جو سونگز آتے ھیں وہ بھی سارے کور سونگز یا فوک ھوتے ھیں نیا کچھ نہ بن رھا ھے نہ آرھا ھے۔آرٹسٹ کا کام البم سے نظر آتا ھے۔سوشل میڈیا پر ایسے لوگ منظر پر آئے ھیں جن کے بارے میں سوچھا بھی نہیں جاسکتا کہ بغیر آرڈیشن کے مین سٹریم پر آجائینگے۔ایسے لوگوں کے بارے میں queries آتی ھے کہ انکی ضرورت ھے ھم کہتے کہ ٹھیک ھم نے نام نہیں سنا آپ ان کا کوئی گانا بتائیں شاید میں نے سنا ھو ان کا گانا بھی کوئی نہیں ھوتا۔وہ کہتے ھیں کہ وہ جی میڈم نورجہان کا "میں تے میرا دلبرجانی” میں کہتاھوں وہ تو میڈم نورجہاں کا ھے ان کا کام بتائیں کونساھے۔ایسے بہت ساری مثالیں ھیں جو 15/15 لاکھ روپے کنسرٹ میں گانے کا لیتے ھیں لیکن ان کا اپنا سکور نہیں ھوتا اور ویوز انکے ھوتے ھیں تین میلینز,سات میلینز۔اصل میں ھم بہت ساری چیزیں بہت بعد میں سیکھتے ھیں جب دنیا سیکھ کے ٹیکنالوجی بدلنے کی طرف جارھی ھوتی ھے اس وقت ھم اس ٹیکنالوجی میں سوئچ ھوتے ھیں۔جیسا کہ ھم ڈیجیٹل پہ سوئچ ھوئے ھیں تو ان شاءاللہ جب یہ ختم ھوگی تو ھم اس پر عبور حاصل کرینگے۔ ویوز تو ِبکتے ھیں ویوز خرید لیتے ھیں۔بہت کم ملکو ٹائپ کے لوگ ھوتے ھیں یا فولک آرٹس ھیں سرائیکی بیلڈ میں بہت اچھے آرٹسٹ ھیں نیشنل لیول پر کچھ آرٹسٹ ھیں جن کے جینون ویوز بنتے ھیں۔کچھ گانا,گانا ھوتا ھے جو آرگینک سونگ,ھرجگہ سنائی دے گا آپ کو۔لیکن ایسے بہت سارے گانے ھیں جن کے ابو نے پیسے دیئے کہ چل بیٹا یہ لیں 20/30 لاکھ روپے خرچ کردیں اور نظر آنے چاھیئے تیرے دس میلینز ویوز۔
"دل تیرے نام” اس آرگینک سونگ کے ویوز ایک لاکھ اسی ھزار ایک جگہ ھیں, لاکھ کسی اور جگہ ھیں اسی ھزار کسی اور جکہ ھیں مطلب آپ کو ھارڈلی ملین کے قریب اس مشہور گانے کے ویوز ملینگے۔ ایک بلکل نیا گانا جو آپ نے سنا ھوگا نہ میں نے سنا ھوگا سنگر دس لاکھ لے رھا ھوگا فنگشن کے اور گانے کے ویوز ھونگے سات ملین,آٹھ ملینز,نو ملین گانا نہ آپ نے سنا ھوگا نہ میں نے سنا ھوگا نہ اسکے اپنے گھر والوں نے سنا ھوگا لیکن ویوز مل جاتے ھیں۔
راقم الحروف,نشاندھی کرتا چلوں کہ Kp(خیبر پختوخوا) میں بہت سارے سنگرز ھیں جنکے آرگینگ ویوز ھیں جن میں کرن خان اور جاوید امیر خیل(دونوں میرے سرگم گائیڈ میوزیکل اکیڈمی انٹرنیشل سے سرٹیفائیڈ سٹوڈنٹس ھیں) بھی شامل ھیں۔دوران گفتگوں بات چلی کہ, اب ھم نے آرٹسٹ کی کیٹگری کا تعین اسکے فالورز کے اوپر شروع کردیا ھم یہ نہیں دیکھتے کہ آپ نے کام کیا, کیا ھے نمبر ایک,نمبر دو آپ کے کام کی کوالٹی کیا ھے آپ کے کام کی کوانٹٹی کیا ھے۔پلیٹ فارمز کیا ھیں۔ھم یہ دیکھتے کہ کہ آپ یہاں کل آئے,پرسوں آئے, ترسوں آئے جب بھی آئے آپ کے اتنے ملینز فالورز ھیں بس آپ چاھیئے ھمیں۔آپ ھی ھیں جو لوگوں تک رسائی رکھتے ھیں,
اس طرح کے گفتگوں سے ذھن کے دریچے کھلتے ھیں۔اس پر اخبارات میں میرے آرٹیکل موجود ھیں کہ اب تو صدارتی ایوارڈز کے نامزدگی کا تعین بھی سوشل میڈیا کے بلبوتے پر کیا جاتاھے۔کمیٹی میں شامل اراکین موسیقار یا موسیقی کی جانکاری اور معیار سے لاعلم ھوتے ھیں,اس ضمن میں 1958 جب سے پاکستان میں صدارتی ایوارڈ کا اجراء ھوا سے 1995/2000 تک بتدریج محقق اور مھذب افراد ایوارڈ کمیٹی کا حصہ رھے جس کا اندازہ انکے شعبہ موسیقی سے وابستہ نامزد ایوارڈز یافتہ گان سے بآسانی لگایا جاسکتاھے۔ریڈیو,فلم ھی ایسا میڈم تھا جس سے آرٹسٹ کے معیار کا تعین کیا جاتا۔ بعد میں پی ٹی وی بھی شامل حال رھا۔صدارتی ایوارڈ کا اپنا ایک معیار ھوتا۔جو اب نہیں رھا۔
پالیسی کسی بھی شعبہ کی ریڑھ کی ھڈی کی حیثیت رکھتی ھے۔تنویر صاحب کے بات سے اتفاق ھے کہ گزشتہ وقتوں میں اس عمارت کی بنیاد مخلص اور باعلم لوگوں پر قائم تھی۔اب نہ وہ نظر رھا اور نہ نظریہ۔
2016 UNESSCO
کی ٹیم کلچر پالیسی بنانے کی غرض سے پشاور آئی تھی۔پی سی ھوٹل پشاور میں 16/17 نومبر دو روزہ ورکشاپ تھا جس میں ھم شامل تھے۔شعبہ موسیقی کے لیئے ھمیں منتخت کیاگیا ھم نے 6 ھفتہ رات دن محنت کرکے میوزیشن کمیونٹی کے لیئے تحریری پالسی تجاویز ڈائیرکٹر کلچر ڈپارٹمنٹ خیبر پختونخوا اجمل خان کے پاس جمع کی جسے بہت سراھا گیا۔اسی بنیاد پر الحمدللہ صدارتی ایوارڈ کے لیئے انتخاب اور کیٹگریز پر اب محتاط رویہ اختیار کیئے جانے کا رجحان پیدا ھوگیا ھے۔یہی صورتحال مرکز کی جانب سے صوبوں کو آرٹسٹوں کے لیئے انڈولمنٹ فنڈ کی ترسیل کا رھا۔خیبرپختونخوا کا فنڈ جن ذمہ داروں کو مستحق افراد میں تقسیم کرنے کو دیا گیا انھیں صرف سوشل میڈیا سے وابستہ ھی منظور نظر رھے۔جس پر میں سٹینڈ لیا اور مذکورہ نمائندوں سے میٹنگ کی,انھیں خیبر پختونخوا کے تمام ساتوں ڈویژن کے مستحق افراد کی فہرست جو میں نے ایسے ھی صورتحال کے لیئے تیار کی ھے ڈسکس کی۔انہوں نے آئندہ اس قسم کی فنڈ کی تقسیم کے لیئے میرے ساتھ مشاورت کی یقین دھانی کروائی۔
ھماری نظر میں تنویرآفریدی صاحب اپنے کام میں ایکسپرٹ ھیں سوشل میڈیا,یوٹیوب چینلز,فیس بک,انسٹاگرام اور دیگر سائٹس پر کام کرنے والے کمپوزر,ارینجرز یعنی تخلیق کاروں کے ارننگ جیسے ایشوز پر اپنے تجربہ کے مطابق تعمیری کام کرنے کی تجویز ھے۔تاکہ EMI کی طرح انھیں بھی ان پلیٹ فارم سے ارننگ میں متعین حصہ ملے,نہ کہ صرف پروڈکشن یا سنگر کو۔
Atv
چینل پر تنویرآفریدی صاحب کی گفتگوں سے ھمارا حوصلہ بڑھا کہ میوزک انڈسٹری میں دیگر قابل لوگوں سمیت الحمدللہ آپ آرٹسٹ کمیونٹی کے لیئے مثبت سوچ اور قانون,قاعدے سے واقفیت رکھنے اور ان اقدار پر ھر میڈیئم پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات پر عمل پیرا ھیں۔
اللہ پاک آپ کو ھمت,حوصلہ,صحت کاملہ او جزائے خیر عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed