ٰٰیوٹیلٹی سٹورز کی حالت زار
یوٹیلٹی سٹورز کے قیام کا مقصد عوام کو سستی و معیاری اشیاء کی بروقت فراہمی یقینی بنانا تھا تاہم ابھی تک اس کا یہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا ۔خصوصی طورپر رمضان المبارک و خصوصی تہواروں کے موقع پر عوام کو ان سرکاری سٹورز پر لائنوں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے اور آٹے یا چینی کے بحران کے دوران ان سٹورز سے ان اجناس کا ملنا اور بھی دشوار ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب شہریوںکا ان سرکاری سٹورز سے اعتبار اٹھ گیا ہے کیوں کہ جو اشیاء وہ یوٹیلٹی سٹورز سے خریدتے ہیں ان کا معیار بہتر نہیں ہو تا جس وجہ سے وہ سستی اشیاء بازار کے مقابلے میں مہنگی پڑتی ہیں ۔ مثال کے طور پر غیر معیاری آٹا استعمال کے دوران آدھا ضائع ہو جاتا ہے اس ہی طرح کم میٹھی چینی زیادہ استعمال ہو تی ہے ۔ ادھر یوٹیلٹی سٹورز کی چینی عام بازاروں میں چوری کر کے فروخت کرتے ہوئے بھی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اور بھی بہت سے سیکنڈلز سامنے آچکے ہیں جس سے ان سرکاری سٹورز ساکھ متاثر ہوئی ہے ۔ اب ان سٹورز پر ہڑتالوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے جنہیں روکنے کے لئے وفاقی حکومت نے یوٹیلٹی سٹورز میں لازمی سروس ایکٹ نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق لازمی سروس ایکٹ کے تحت ہڑتال، مظاہروں اوراحتجاج پرپابندی ہوگی اور یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن یونیز کی سرگرمیوں پربھی پابندی ہوگی۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔حکومتی ذرائع نے بتایاکہ فیصلے سے شہریوں کو رمضان پیکچ کے تحت اشیا کی بلاتعطل فراہمی ممکن ہوسکے گی۔ذرائع کے مطابق یوٹیلٹی سٹورزیونینز نے مطالبات کے حق میں شٹرڈان ہڑتال کا فیصلہ کیا تھا۔یہ فیصلہ یوٹیلٹی سٹورزیونینز نے عین رمضان پیکج کے اطلاق کے موقع پر کیا تھا۔ علاوہ ازین شہریوں کیلئے ایک بری خبر یہ بھی ہے کہ پشاور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں یوٹیلٹی سٹورز میں آٹے کی سپلائی تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔ یوٹیلٹی سٹورز پر آٹے کی قلت کے باعث روزہ داروں کو شدیدترین مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہاہے یوٹیلٹی سٹورز پر آٹے کے حصول کے لئے روزہ دار آپس میں لڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس حوالے سے اگر صوبائی دار الحکومت پشاور کا جائزہ لیا جائے تو اس کے اکثر گنجان آباد علاقوں جن میں یوسف آباد ، نوتھیہ ، کوہاٹ روڈ ، یونیورسٹی روڈ ، سمیت شہر کے مختلف مقامات شامل ہیں میں یوٹیلٹی سٹورز پرروزہ دار خواتین و مردوں کی لائنیں لگ جاتی ہیں ۔ جس کے باعث آٹے کے حصول کے لئے لڑائی جھگڑے معمول بن گیا ہے ۔ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے حکام کی جانب سے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث روزہ دار آٹے کی دو تھیلوں کے لئے لڑائی جھگڑے کرنے لگے ہیں ۔غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہری یوٹیلیٹی سٹور کے باہر سستے آٹے کی فراہمی کے لئے قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں یا آٹا آنے کا انتظار کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں اب ان یوٹیلٹی سٹورز کو چلانے کی ضرورت پر سوال اٹھنے لگے ہیں کہ یا تو ان سٹورز کی انتظامیہ کا قبلہ درست کیا جائے پھر اس چین پر اربوں روپے خرچ کرنے کی ضروری نہیں ہے بلکہ یہ پیسہ عام بازاروں پر ٹیکس کم کر کے ایڈجسٹ کیا جائے تاکہ عام بازاروں میں سستی اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے ۔ در اصل اس رائے میں کافی وزن ہے کہ حکومت کیوں دوھری محنت کر رہی ہے ایک طرف بازاروں کو کنڑول میں رکھنے کے لئے سرکاری ملازمین جو قومی خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں کی فوج ظفر موج موجود ہے تو دوسری طرف ان سٹورز پر پیسہ خرچ کیا جارہا ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہو تا اگر عام بازاروں کو کنٹرول میں رکھا جاتا تو آج شہریوں کی اتنی بری حالت نہ ہو تی ۔ اگر حکومت نے سرکاری سٹورز چلانا ہی ہیں تو پھر اس کو کاروبار کا زریعہ نہ بنایا جائے بلکہ ان سٹورز کو راشن کارڈز پر چلایا جائے تاکہ کسی کے حصے کی چینی یا آٹا کوئی نہ چرا سکے ۔ یہاں تو حالات کافی خراب ہیں جب بھی ملک میں آٹے یا چینی یا پھر گھی کا مصنوعی بھران پیدا کر دیا جاتا ہے تو پھر ان سٹورز کی کی اجناس بازاروں میں بک رہی ہی ہو تی ہیں ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سٹورز کی اس بڑی چین کی حالت زار پر توجہ دی جائے اور نہ صرف یہاں پر شہریوں کو وافر مقدار میں اشیاء خورد و نوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے بلکہ ان میں کام کرنے والے ملازمین کے مسائل بھی حال کئے جائیں تاکہ انہیں کنٹرول کرنے کے لئے لازمی سروسز ایکٹ جیسے ہتھکنڈے نہ اپنانے پڑیں ۔ md.daud78@mail.com







