روپے کے استحکام کیلئے نگران حکومت سے وابستہ امیدیں

روپے کے استحکام کیلئے نگران حکومت سے وابستہ امیدیں

سابقہ حکومتوں اور موجودہ انتظامیہ کی نااہلی کا اور کتنا رونا رویا جائے ملک کی معیشت دن بدن گرتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں مزید کمی واقع ہوئی ہے ۔ انٹربینک تجارت کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 2.78 روپے گر گیا۔ ایک دن میں امریکی کرنسی کی قدر 291.27 روپے پر پہنچ گئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں یہ 300روپے کی نفسیاتی رکاوٹ عبور کر گئی ہے۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ سابق اتحادی حکومت نے 16مہینوں کے ہنگامہ خیز دور میں جو فوری اصلاحات کیں تھیں وہ سب خاک میں مل گئیں ہیں جو اتحادی جماعتوں کا منہ چڑھا رہی ہیں۔ اسی طرح تاجروں و سرمایہ کاروں کا ملک کے معاشی نظام سے اعتبار اٹھ گیا ہے اور انہوں نے اپنا سرمایہ فریز کر نا شروع کر دیا ہے تاکہ زیادہ نقصان سے بچا جاسکے ۔ سرمایہ کاروں کی اس طرز عمل کے نتیجے میں رئیل سٹیٹ انڈسٹری بیٹھ گئی ہے جس سے مزدورو کاریگر بے روز گار ہو گئے ہیں جو فاقوں پر مجبور ہیں ۔ ادھر حکومتی سطح پر اس ناگفتہ بہ حالت کو دور کرنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات خارج از امکان ہیں۔ اس لئے نگران حکومت سے کسی فوری بھلائی کی امید نہیں رکھی جاسکتی ۔ پیر روز روپے کی گرتی ہوئی قدر نے نگران وزیر اعظم کا استقبال کیا جبکہ اس کا جواب انہوں نے عوام پر پیٹرول بم گرادیا جس کیلئے اتحادی جماعتیں تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کر تی رہیں اور اب انکا تشکیل دیا گیا نظام عوام کا خون چوس رہا ہے یعنی حکومتیں بدلنے سے عوام کی مشکلات میں کمی نہیں آئی ۔ ابھی تک نگران کابینہ تشکیل نہیں دی گئی تاہم وزیر اعظم نے فوری طور پرملک کی معاشی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اقتصادی ماہرین کی ایک اعلی سطحی میٹنگ بلائی جس میں انہوں نے معیشت کی خستہ حالی سے خود کو آگاہ کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر جب تک ایک مضبوط جمہوری حکومت قائم نہیں کی جاتی یہ حالات نگران وزیر اعظم چند ماہ میں نہیں سدھار سکتے ۔ جہاں تک روپے کی نچلی سطح پر گرنے کا تعلق ہے تو یہ نوشتہ دیوار تھا کیونکہ جب سے آئی ایم ایف کے ساتھ سٹینڈ بائی ڈیل ہوئی ہے مارکیٹ میں موجود قوتیں اس کو تسلیم نہیں کر رہی تھیں ۔ علاوہ ازیں سبکدوش ہونے والی حکومت کھلی منڈی کے درمیان فرق کو یقینی بنانے کے لئے آئی ایم ایف کی شرط کی پابندی کرنے میں بھی حقیقی طور پر ناکام رہی اور اس نے جاتے جاتے قوم کوبھنور میں چھوڑ دیا ۔ اب حالات کو بہتر بنانے کے لئے سخت اصلاحات کے ساتھ پائیدار اقدامات ناگزیر ہیں ۔ ملک کی تاریخ کی پہلی بااختیار نگران حکومت کو اس سے نمٹنے کیلئے سنجید ہ اقدامات کرنا ہو ں گے ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے اسکی پہلی ذمہ داری روپے کی قدر کو بلند کرنا اور پٹرول و توانائی کی قیمتوں کم کرنا ہے ۔ ۔ ادھر غیر ملکی کرنسی کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈائون بھی ناگزیر ہے ۔ اب دیکھنا ہوگا کہ نگران وزیر اعظم اپنی کابینہ میں کتنے اور کس قسم کے وزراء شامل کر تے ہیں ۔ اگر وہ مختصر کابینہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر کچھ کام کرنے میں بھی کامیاب ہو ں گے تاہم یہ کامیابی باہر سے پیسہ آنے کی صورت میں ہی ملے گئی، طویل المدتی کامیابی کے لئے قوم کو ایک خود مختار اور آزاد حکومت کا انتظار کر نا ہو گا جس کے وعدے ا س سے ہر بار کئے جاتے ہیں۔ md.daud78@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed