پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کے لئے بین الاقومی ایکریڈیٹیشن کا حصول

پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے گریجویٹس کو بین ملک شناخت کے مسائل کئی دہائیوں سے چلے آرہے ہیں جنہیں حل کرنے کے لئے حکومت اقدامات کرتی رہتی ہیں تاہم اس کے باوجود یہ مسائل بدستور موجود ہیں ۔ موجودہ حکومت نے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک بار پھر پی ایم ڈی سی کو بحال کردیا ہے جس کو نیک شگون قرار دیا جارہاہے اور حکومت کے اس اقدام سے میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے مسائل حل ہو ں گے ۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ورلڈ فیڈریشن فار میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے ایکریڈیشن کی درخواست عالمی سطح پر پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کی پہچان کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یو ایس ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس کی جانب سے غیر ملکی گریجویٹس کی اہلیت کو صرف ڈبلیو ایف ایم ای کے تسلیم شدہ ممالک تک محدود رکھنے کا فیصلہ پاکستان کے میڈیکل ایجوکیشن سسٹم کو بڑھانے کے لیے اس شناخت کے حصول کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے تاہم پاکستانی طلبا کو بین الاقومی شناخت مل سکے اور امریکہ سمیت مختلف ممالک میں اعلیٰ تعلیم جاری رکھ سکیں گے ۔ یاد رہے کہ ڈبلیو ایف ایم ای ایکریڈیشن کی طرف سفر پاکستان کے لیے پریشان کن رہا ہے۔ ادھر پاکستان میڈیکل کمیشن کے قیام اور اس کے نتیجے میں پی ایم ڈی سی کی تحلیل نے بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی تاہم موجودہ حکومت کی جانب سے پی ایم ڈی سی کو بحال کرنے اور ڈبلیو ایف ایم ای کی شناخت کو ترجیح دینے کی کوششیں قابل ستائش ہیں ۔ ڈبلیو ایف ایم ای کے معیارات پر پورا اترنے کے لیے پی ایم ڈی سی کی لگن ملک بھر کے ماہرین کے ساتھ ایکریڈیٹیشن سیل کی تشکیل اور 124 کالجوں پر مشتمل وسیع ورکشاپس کے انعقاد سے عیاں ہے۔ کونسل کی طرف سے ملک بھر کے ماہرین کی شرکت کے ساتھ یہ باہمی تعاون کا طریقہ پاکستان میں طبی تعلیم کو بڑھانے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ ڈبلیو ایف ایم ای کی شناخت کو حاصل کرنے سے مقامی میڈیکل گریجویٹس کے لیے بہت دور رس فوائد ہوں گے جو بغیر کسی پابندی کے امریکہ میں تربیت اور کام کرنے کا موقع حاصل کرسکیں گے جس کا میڈیکل کے حلقوں میں بہت خیر مقدم کیا جارہا ہے ۔ جیسا کہ ڈبلیو ایف ایم ای اسسمنٹ ٹیم پی ایم ڈی سی اور اس کے ریگولیٹری سسٹمز کا معائنہ کرنے کے لیے اپنے دورے کا منصوبہ بناتی ہے پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایک ہموار اور موثر تشخیصی عمل کو یقینی بنائے تاہم اس کے لئے دی گئی آخری تاریخ کو دیکھتے ہوئے وقت کی پابندی ضروری ہے اور پی ایم ڈی سی کو کسی بھی ممکنہ کوتاہیوں کو تیزی سے دور کرنا چاہیے۔ طبی تعلیم کے معیارات کو نہ صرف ڈبلیو ایف ایم ای کے معیار کے مطابق ہونا چاہیے بلکہ بین الاقوامی سطح پر چلنے والے بہترین طریقوں کی بھی عکاسی کرنی چاہیے۔ اس ایکریڈیٹیشن کو حاصل کرنے اور اندرون ملک اور بیرون ملک پاکستانی میڈیکل گریجویٹس کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے میں شامل تمام سٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششیں اہم کردار ادا کریں گی اور اگر یہ موقع ضائع کر دیا جاتا ہے تو پھر اس کا اثرہمارے فارغ التحصیل طلباء پر پڑے گا لہذا یہ ضروری ہے کہ مذکورہ ایکریڈیٹیشن حا صل کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں جائیں تاکہ یہ اہم موقع ضائع نہ ہو سکے تاہم اس عمل میں روایتی کوتاہی بر تی گئی تو پھر اس کی ذمہ داری تمام سٹیک ہولڈرز پر عائد ہو گی ۔ md.daud78@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed