ہم جانتے ہیں کہ فالج کی صورت میں ابتدائی لمحات بہت قیمتی ہوتے ہیں اور چند گھنٹے کے اندر مناسب طبی امداد ملنے سے موت یا عمر بھر کی معذوری سے بچا جاسکتا ہے۔ لیکن اب ایک ناک کی پھوار (نوزڈراپس) سے وقت بیتنے کے باوجود بھی مریض کو بحال کرسکتی ہیں۔سویڈن کی یونیورسٹی آف گوتھن برگ اور چیک اکادمی برائے سائنس کے ماہرین نے ڈراپس میں سی تھری اے نامی پیپٹائڈ شامل کیا ہے جو مرکزی اعصابی نظام (دماغ) میں قدرتی طورپربنتا ہے۔ گزشتہ تحقیق بتاتی ہے کہ شاید اس سے فالج کے مریضوں میں جسمانی حرکات کو بحال کیا جاسکتا ہے۔







