امریکی جریدے ایگزیوس نے رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے منگل کے روز امریکی حملوں کے دوران ایران میں ایک شادی کی تقریب کے دوران شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ یہ واقعہ امریکی حملے کا براہِ راست نتیجہ تھا، لیکن اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ چھ ماہ قبل امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے شہریوں کے جانی نقصان کے بڑے واقعات میں سے ایک ہو گا۔اب تک شہریوں کے جانی نقصان کا سب سے ہولناک واقعہ جنگ کے پہلے دن پیش آیا تھا، جب امریکی حکام کے مطابق ایران میں ایک سکول پر امریکی حملے میں 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اس حملے کے بارے میں فوج کی تحقیقات جلد مکمل ہو جائیں گی۔ایگزیوس سے بات کرتے ہوئے امریکی حکام نے بتایا کہ سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اس حملے کے اندرونی جائزے کا حکم دیا۔یہ رپورٹ خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے اسلحہ کے ماہرین کے حوالے سے دی گئی اس خبر کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوہستک شہر میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والا دھماکہ غالبا امریکی ہتھیار کے براہِ راست لگنے سے ہوا تھا، نہ کہ ایرانی فضائی دفاعی میزائل کے بالواسطہ ٹکرانے یا رخ تبدیل کرنے کے نتیجے میں۔







