مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 151 کی مسلسل خلاف ورزی کے بعد وفاقی حکومت بھی گزشتہ تین سال سے آئین کے آرٹیکل 161(2) کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، جس کے باعث خیبرپختونخوا کو اس کے آئینی حق، یعنی خالص پن بجلی منافع (Net Hydel Profit) کی مکمل ادائیگی نہیں کی جا رہی۔مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 151 کی مسلسل خلاف ورزی کے باعث گندم کی بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال ملک میں گندم کے نرخوں میں 85 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسری جانب وفاقی حکومت بھی گزشتہ تین سال سے آئین کے آرٹیکل 161(2) کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے اور خیبرپختونخوا کو اس کے آئینی حق، یعنی خالص پن بجلی منافع کی مکمل ادائیگی نہیں کی جا رہی۔مشیر خزانہ نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 161(2) کے تحت کسی صوبے میں واقع پن بجلی گھر سے حاصل ہونے والے خالص منافع کا حق اسی صوبے کو حاصل ہے جہاں وہ پن بجلی گھر واقع ہو۔ اس آئینی اصول کے تحت پن بجلی کی پیداوار کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اثرات برداشت کرنے والے صوبے کو اس کا خالص پن بجلی منافع ادا کرنا لازم ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کا سب سے بڑا پن بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے اور قومی گرڈ میں مجموعی پن بجلی پیداوار کا 70 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے، جبکہ پنجاب کی پن بجلی پیداوار تقریباً 30 فیصد ہے، جس میں نمایاں حصہ غازی بروتھا پن بجلی منصوبے اور دیگر منصوبوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اس تناظر میں خیبرپختونخوا کو صوبے میں ہونے والی پن بجلی کی پیداوار کی بنیاد پر خالص پن بجلی منافع میں ایک اہم آئینی حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال، یعنی 2024 سے 2026 کے دوران خالص پن بجلی منافع کی مد میں پنجاب کو 177.7ارب روپے ادا کیے گئے، جبکہ خیبرپختونخوا کو صرف 71.5ارب روپے ملے۔ یوں پنجاب کو خیبرپختونخوا کے مقابلے میں 106.2ارب روپے زیادہ ادا کیے گئے، حالانکہ پن بجلی کی پیداوار کے اعتبار سے خیبرپختونخوا کا حصہ پنجاب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ اسی عرصے کے دوران خیبرپختونخوا میں واقع 12 پن بجلی گھروں نے مجموعی طور پر 61.2ارب یونٹس بجلی پیدا کی، جبکہ پنجاب میں واقع پن بجلی گھروں کی اسی مدت کے دوران مجموعی پیداوار صرف23.5ارب یونٹس رہی







