ولی عہد ہاکون ناروے کے نئے بادشاہ ہاکون ہشتم بن گئے

لندن :رپورٹ،سید عاصم علی قادری
ناروے کے نئے بادشاہ ہاکون ہشتم: جدید دور کے نئے بادشاہ نے تخت سنبھال لیاناروے میں ایک نئے شاہی دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ سابق بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے 28 اگست 2026 کو 89 برس کی عمر میں انتقال کے بعد ان کے اکلوتے بیٹے ولی عہد ہاکون نے ناروے کا تخت سنبھال لیا اور اب وہ بادشاہ ہاکون ہشتم کہلاتے ہیں۔ ہاکون کی عمر 53 برس ہے اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے اپنے والد کی علالت کے دوران متعدد مواقع پر نائب بادشاہ کی حیثیت سے ریاستی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے تھے۔ ہاکون میگنس کی پیدائش 20 جولائی 1973 کو اوسلو، ناروے میں ہوئی۔ وہ بادشاہ ہیرالڈ پنجم اور ملکہ سونیا کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ ان کی ایک بڑی بہن شہزادی مارٹا لوئیس بھی ہیں، تاہم ہاکون کو ولی عہد اس لیے بنایا گیا کہ ان کی پیدائش کے وقت تخت کی جانشینی کے قوانین میں مرد وارث کو ترجیح حاصل تھی۔ بعد میں ناروے نے جانشینی کے قانون میں تبدیلی کرکے خواتین اور مردوں کو مساوی حق دیا، جس کے تحت اب ہاکون کی بڑی بیٹی شہزادی انگرڈ الیگزینڈرا ان کی جانشین اور آئندہ ملکہ بننے کی پہلی حقدار ہیں۔ بادشاہ ہاکون نے ناروے میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد امریکا کی معروف یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے سیاسی علوم کی تعلیم حاصل کی۔

بعد ازاں انہوں نے برطانیہ میں لندن اسکول آف اکنامکس سے ترقیاتی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ انہیں موسیقی، سمندر اور خصوصا سرفنگ سے دلچسپی رہی ہے اور وہ اپنی نسبتا سادہ اور غیر رسمی شخصیت کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ ہاکون نے 2001 میں میٹے میریٹ ٹیسم ہویبی سے شادی کی، جو اب ملکہ میٹے میریٹ ہیں۔ اس شادی کو اس وقت خاصی عوامی توجہ حاصل ہوئی کیونکہ میٹے میریٹ پہلے ایک عام شہری کی حیثیت سے زندگی گزار رہی تھیں اور ان کی پہلی شادی سے ایک بیٹا بھی تھا۔ شاہی جوڑے کے دو بچے ہیں: ولی عہد شہزادی انگرڈ الیگزینڈرا اور شہزادہ سِویرے میگنس۔ ہاکون کے بادشاہ بننے کے بعد انگرڈ الیگزینڈرا ناروے کے تخت کی اگلی وارث بن گئی ہیں۔ ہاکون نے 1991 میں ولی عہد کا منصب سنبھالا تھا اور اس کے بعد تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک شاہی خاندان کی نمائندگی کرتے رہے۔ والد ہیرالڈ پنجم کی صحت خراب ہونے کے دوران ہاکون نے کئی مرتبہ نائب بادشاہ کی حیثیت سے ریاستی اجلاسوں کی صدارت اور دیگر آئینی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اب بادشاہ بننے کے بعد ان کے فرائض میں ناروے کی نمائندگی، غیر ملکی سربراہانِ مملکت کا استقبال، سرکاری دورے اور آئینی نوعیت کی ریاستی ذمہ داریاں شامل ہوں گی۔ ناروے کے سیاسی نظام میں حقیقی حکومتی اختیار منتخب پارلیمنٹ اور حکومت کے پاس ہے، اس لیے بادشاہ کا کردار بنیادی طور پر آئینی، نمائندہ اور علامتی ہے۔بادشاہ ہاکون ہشتم نے اپنے والد، دادا اور پردادا کی روایت برقرار رکھتے ہوئے شاہی شعار "سب کچھ ناروے کے لیے” (Alt for Norge) اختیار کیا ہے۔ ناروے کی حکومت کے مطابق نئے بادشاہ کی ذمہ داری ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب ملک سابق بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے انتقال پر سوگوار ہے۔ وزیراعظم جوناس گار اسٹورے نے بھی نئے بادشاہ اور ملکہ کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ بادشاہ ہاکون ہشتم کے تخت سنبھالنے کے ساتھ ناروے میں 35 برس بعد شاہی تخت کی تبدیلی ہوئی ہے۔ ان کے والد ہیرالڈ پنجم نے 1991 سے 2026 تک ملک کی قیادت کی اور اپنی سادگی، عوام دوستی اور قومی اتحاد کی علامت کے طور پر شہرت حاصل کی۔ اب ہاکون کے سامنے سب سے اہم چیلنج اپنے والد کی میراث کو آگے بڑھاتے ہوئے ناروے کے عوام کے اعتماد اور شاہی ادارے کی مقبولیت کو برقرار رکھنا ہے۔ ناروے کے سرکاری شاہی خاندان کے مطابق نئے بادشاہ جلد پارلیمنٹ میں آئین کے تحفظ کا حلف بھی اٹھائیں گے۔ناروے کے شاہی تخت کی اگلی وارث: بادشاہ ہاکون ہشتم کی 22 سالہ بیٹی انگرڈ الیگزینڈرا اب ناروے کی ولی عہد شہزادی اور تخت کی اگلی وارث ہیں۔ اگر وہ مستقبل میں تخت پر بیٹھتی ہیں تو ناروے کو ایک طویل عرصے بعد ایک خاتون حکمران مل سکتی ہے۔ اس طرح ہاکون کا تخت سنبھالنا صرف ایک نئے بادشاہ کی آمد نہیں بلکہ ناروے کی بادشاہت کی اگلی نسل کے لیے بھی ایک نئے دور کا آغاز ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed