امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں ایک گرینڈ جیوری نے 17 سالہ لڑکی سارہ لنڈسے سینتیاگو پر کیلیفورنیا کی ایک مسجد میں ہونے والے مہلک حملے میں مبینہ معاونت کے الزام میں قتل کی فردِ جرم عائد کردی ۔ حکام کے مطابق لڑکی پر الزام ہے کہ اس نے 18 مئی کو سان ڈیاگو کی مسجد پر ہونے والے حملے کی لائیو ویڈیو نشر کی اور اسے دوسروں تک پہنچانے میں مدد دی۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق فورسائتھ کائونٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی جم اونیل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکام نے لڑکی کے خلاف شمالی کیرولائنا میں ریاستی سطح پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ وہاں 17 سال کی عمر میں بھی کسی نوجوان پر بالغ فرد کی حیثیت سے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔حکام کے مطابق سینتیاگو کو گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔ پیر کو جاری ہونے والی فردِ جرم میں اس پر قتل کی تین دفعات اور مجرمانہ سازش کی ایک دفعہ عائد کی گئی ہے۔ ر پورٹ کے مطابق تاحال سینتیاگو کے کسی وکیل کی شناخت نہیں ہوسکی جو اس معاملے پر اس کی جانب سے موقف پیش کرسکے۔18 مئی کو سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر میں ہونے والے حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق اس وقت مسجد سے منسلک اسکول میں تقریبا 140 بچے موجود تھے۔ حملہ آوروں نے مسجد میں موجود افراد پر فائرنگ کی تھی اور اس حملے میں مسجد کے سکیورٹی گارڈ 51 سالہ امین عبداللہ، 78 سالہ نگران منصور کزیحہ اور 57 سالہ نادر عواد ہلاک ہوئے۔ نادر عواد اسلامک سینٹر سے وابستہ ایک ٹیچر کے شوہر تھے۔تینوں مقتولین کو اس بات پر ہیرو قرار دیا گیا کہ ان کی کارروائیوں نے حملہ آوروں کو مزید لوگوں کو نقصان پہنچانے سے روکنے میں مدد دی۔ ان کے لیے منعقدہ تعزیتی تقریب میں بھی ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔تحقیقات کے مطابق حملے میں مبینہ طور پر ملوث 18 سالہ کالیب وازکیز اور 17 سالہ کین کلارک فائرنگ کے بعد فرار ہوتے ہوئے اپنی گاڑی میں ہلاک ہوگئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں کے ارادوں میں ایک یہودی عبادت گاہ اور زیادہ تر افریقی نژاد امریکی طلبہ والے ایک ہائی اسکول کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔ڈسٹرکٹ اٹارنی اونیل کے دفتر کے مطابق حملے سے پہلے سینتیاگو نے مبینہ طور پر اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ حملے کی لائیو ویڈیو نشر کرے گی، اسے عوام تک پہنچائے گی اور بعد میں حملہ آوروں کی جانب سے تیار کیا گیا منشور جاری کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس منشور کا مقصد حملے کے لیے جواز پیش کرنا تھا۔اونیل نے وضاحت کی کہ شمالی کیرولائنا کے قانون کے تحت کوئی شخص کسی جرم میں مدد یا معاونت کا مرتکب قرار پا سکتا ہے اگر اس کا مجرم کے ساتھ وہی مجرمانہ ارادہ ہو اور وہ جرم کے دوران مدد فراہم کرنے یا نقصان روکنے میں اپنا کردار ادا نہ کرے، چاہے وہ خود جائے وقوعہ پر موجود نہ ہو۔ڈسٹرکٹ اٹارنی نے حملہ آوروں اور ان سے منسلک افراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہیں ایک ایسی خفیہ آن لائن ذیلی ثقافت کا حصہ قرار دیا جو لوگوں کو شدید نفرت اور تشدد کی طرف مائل کرتی ہے۔ ان کے مطابق تفتیش کاروں کو حملہ آوروں کے منشور میں مختلف نسلی، سیاسی اور مذہبی گروہوں کے خلاف شدید نفرت کے شواہد ملے ہیں۔تحقیقات کے دوران حکام کو معلوم ہوا کہ حملے کی لائیو ویڈیو تین افراد نے دیکھی تھی۔ ابتدائی طور پر تفتیش کار صرف اتنا جانتے تھے کہ ان میں سے ایک خاتون مشرقی امریکی ٹائم زون میں موجود تھی، تاہم بعد میں اس خاتون کی شناخت سینتیاگو کے طور پر کرلی گئی۔اونیل نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ لائیو ویڈیو دیکھنے والے دیگر دو افراد کی شناخت بھی ہوئی ہے یا نہیں، اور آیا ان کے خلاف بھی کوئی قانونی کارروائی کی جائے گی۔شمالی کیرولائنا میں مقدمہ چلائے جانے کی صورت میں سینتیاگو کو وفاقی مقدمے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔ حکام کے مطابق وفاقی سطح پر عائد کیے جانے والے ممکنہ الزامات میں سزا تقریبا تین سے چار سال ہوسکتی تھی، جبکہ ریاستی قانون کے تحت جرم ثابت ہونے پر پیرول کے بغیر عمر قید کی سزا ممکن ہے۔ تاہم حتمی سزا کا انحصار مقدمے کی کارروائی، شواہد اور عدالت کے فیصلے پر ہوگا۔







