بانی کی صحت کا معاملہ’ خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان کی صحت اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے معاملے پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید تلخ کلامی اور ہنگامہ آرائی ہوئی۔ حکومتی رکن اسمبلی سجاد بارکوال نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا، پوری دنیا نے اس کا تماشا دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین نے نارمل چیک اپ کے بعد عمران خان کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔سجاد بارکوال کے اظہارِ خیال کے دوران مسلم لیگ (ن)کی رکن ثوبیہ شاہد نے کورم کی نشاندہی کردی، جس پر حکومتی ارکان مشتعل ہوگئے اور اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔ اس کے بعد ایوان میں شدید شور شرابہ شروع ہوگیا اور ماحول کشیدہ ہوگیا، جبکہ دونوں جانب سے ارکان کے احتجاج کے باعث ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا اور کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے متعدد بار ارکان کو خاموش رہنے اور اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی، تاہم شور شرابہ جاری رہا۔اے این پی کے پارلیمانی لیڈر ارباب عثمان نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ حکومتی بنچز اکثر خالی پڑے رہتے ہیں، ایوان کے تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 92 حکومتی ارکان میں سے وزرا بھی اجلاس میں غیرحاضر رہتے ہیں۔دو منٹ کے وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو مطلوبہ تعداد میں ارکان ایوان میں موجود تھے، تاہم ثوبیہ شاہد کی جانب سے شور شرابہ اور کارروائی میں خلل ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس پر ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کسی مہمان خانے میں نہیں، اسمبلی میں کھڑی ہیں، برائے کرم اپنی نشست پر بیٹھ جائیں۔بعد ازاں سجاد بارکوال نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر 25 کروڑ عوام تشویش میں مبتلا ہیں، جبکہ اپوزیشن عمران خان کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب بھی حکومتی ارکان عمران خان کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو مخالفین انہیں بات کرنے نہیں دیتے۔سجاد بارکوال نے مزید کہا کہ عمران خان سے متعلق عدالتی فیصلے کو ہر سطح پر رد کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بقول آخری لمحات میں عمران خان کو ہسپتال لے جایا گیا جبکہ ان کے ذاتی معالج اور اہلِ خانہ کے رکن کو جان بوجھ کر سائیڈ پر رکھا گیا، جو انتہائی ناروا سلوک اور عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہیخیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے اسمبلی کارروائی میں خلل ڈالنے پر مسلم لیگ (ن) کی خاتون رکن ثوبیہ شاہد کو دو ہفتوں کے لیے معطل کردیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے رولز 227 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے سکیورٹی عملے کو معطل رکن کو ایوان سے باہر لے جانے کی ہدایت کی، تاہم ثوبیہ شاہد اپنی نشست چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئیں۔جمعہ کے روز اسمبلی اجلاس کے دوران حکومتی رکن سجاد بارکوال عمران خان کی صحت کے حوالے سے اظہارِ خیال کررہے تھے کہ ثوبیہ شاہد نے کورم کی نشاندہی کی اور شور شرابہ شروع کردیا۔ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے متعدد بار خاموش رہنے اور ایوان کا نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کے باوجود ثوبیہ شاہد مسلسل بولتی رہیں، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے رولز 227 کے تحت انہیں دو ہفتوں کے لیے معطل کردیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed