پشاور ہائی کورٹ نے پولیس کانسٹیبل کی بطور قائمقام ڈی ایس پی تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے 11 فروری 2020 کو خیبر پختونخوا پولیس فورس میں بطور کانسٹیبل (گریڈ سات)تعینات ہونے والے اور سابقہ خاصہ دار فورس سے تعلق رکھنے والے ایاز خان کی بطور ایکٹنگ ڈی ایس پی انبار ضلع مہمند تقرری کے خلاف اسلام شاہ اور دیگر کی فضل شاہ مہمند ایڈووکیٹ کی توسط سے دائر رٹ پٹیشن پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے 15 ستمبر 2025 کے متنازعہ نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس ایکٹ 2017 کے سیکشن 29 کے تحت ڈی ایس پی کے عہدے کے لیے مقررہ قانونی معیار، اہلیت اور کوٹے کی پاسداری لازمی ہے، اور اس طرح کی عارضی تقرریوں کا قانون میں کوئی جواز نہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ جونیئر یا نااہل اہلکاروں کو میرٹ کے خلاف اعلی عہدوں پر فائز کرنے سے محکمے کے سینئر افسران میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے جو کہ ان کے قانونی حقوق کی پامالی ہے۔ ہائی کورٹ نے ایگزیکٹو اتھارٹی کے اختیارات کو شفاف اور عوامی مفاد کے تابع قرار دیتے ہوئے فیصلے کی نقل کو سختی سے عمل درآمد کے لیے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبر پختونخوا کو ارسال کر دی ہے۔







