کوئٹہ کے نواحی علاقے سپین کاریز (سورینج)میں پیش آنے والے المناک کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق ہونے والے آخری دو کان کن مزدوروں کی لاشیں اتوارکے صبح تمام قانونی کارروائی اور ضروری ضابطہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد ایمبولینسوں کے ذریعے ان کے آبائی ضلع شانگلہ پہنچا دی گئیں۔ ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام، مقامی عمائدین اور ریسکیو اہلکاروں کی موجودگی میں میتیں ورثا کے حوالے کی گئیں جہاں فضا سوگوار مناظر سے بھر گئی اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔لاشوں کی آمد کے موقع پر عزیز و اقارب، اہل علاقہ اور مختلف سیاسی، سماجی و مذہبی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ میتیں گھروں میں پہنچتے ہی کہرام مچ گیا خواتین غم سے نڈھال ہو کر بین کرتی رہیں جبکہ بچوں اور بزرگوں کی آہ و بکا نے ہر شخص کو آبدیدہ کر دیا۔ مرحومین کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان ان کے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک کر دیا گیا۔یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے سپین کاریز (سورینج) میں واقع نجی کوئلہ کان میں زہریلی ساندہ گیس بھر جانے کے باعث خوفناک حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں کان کے اندر کام کرنے والے 34 مزدور جان کی بازی ہار گئے تھے۔ کئی گھنٹوں بلکہ کئی روز تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے دوران ایک ایک کر کے تمام مزدوروں کی لاشیں نکالی گئیں جبکہ آخری دو مزدوروں کی لاشیں ہفتہ کے روز برآمد ہونے کے بعد ریسکیو آپریشن باضابطہ طور پر مکمل کر لیا گیا۔آخری دو میتوں کی شانگلہ آمد کے ساتھ ہی اس اندوہناک سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام مزدوروں کی تدفین مکمل ہوگئی۔ اس دلخراش حادثے نے پورے شانگلہ کو ایک مرتبہ پھر غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں تعزیت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مساجد میں مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور خصوصی دعاں کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہیں۔متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہیں کہ حادثے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئلہ کانوں میں حفاظتی اصولوں پر عملدرآمد نہ ہونے اور متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث ہر سال قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو فوری اور مناسب مالی امداد،سرکاری ملازمت اور بچوں کی تعلیم و کفالت کا بندوبست کیا جائے جبکہ آئندہ ایسے المناک واقعات سے بچنے کیلئے تمام کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنایا جائے۔







