خیبرپختونخوامیں اتحاد اور جمہوری مشاورت کی ایک تاریخی مثال قائم کرتے ہوئے جملہ بالمیک ہندو کمیونٹی خیبرپختونخوانے ایک صوبائی مشاورتی نشست کا انعقاد کیا۔ اس نشست کا مقصد پاکستان کی سب سے زیادہ کمزور مذہبی اقلیتی برادریوں میں سے ایک کو درپیش سماجی و قانونی چیلنجز پر غور کرنا اور ایسی نئی صوبائی قیادت کا انتخاب کرنا تھا جو حقوق، عزت و وقار اور ترقی کے لیے پرعزم ہو۔اس نشست میں خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع سے کلیدی اسٹیک ہولڈرز اور نمائندوں نے شرکت کی، جن میں شامل تھے’سرپنچان، بالمیک سبھا کے صدور، پنڈت اور مذہبی سکالرز، ہندو وکلائ، سماجی کارکنان، سرکاری افسران، ماہرین تعلیم، اساتذہ، کاروباری شخصیات اور نوجوان نمائندے نے شرکت کی یہ وسیع بنیاد کمیونٹی کے جامع فیصلہ سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے عزم کی عکاس ہے۔آئینی تحفظات، قانونی اصلاحات، سماجی شمولیت اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود پر مرکوز دن بھر کی گفتگو کے بعد اسمبلی نے متفقہ طور پرہارون سرب دیال کو جملہ بالمیک ہندو کمیونٹی خیبرپختونخوا کا صوبائی صدرمنتخب کیا۔دیال انسانی حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے آئینی تحفظات کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آواز ہیں۔

وہ پاکستان کونسل آف ورلڈ ریلیجنز – PCWR کے بانی رکن،نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن فار مائنارٹی رائٹس کے سرکردہ رکن اور وزارت مذہبی امور، حکومت پاکستان کے تحت پاکستان ہندو مندر مینجمنٹ کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔صدیوں پرانی مذہبی اور ثقافتی روایات کے مطابق جناب دیال کو *پنڈتوں اور مذہبی رہنماں کے ہاتھوں تلک، پھولوں کی مالائیں اور پشتون روایات کے مطابق پگڑی* پہنا کر عزت بخشی گئی۔ اس موقع پر بھجن پڑھے گئے اور پاکستان کے تمام شہریوں کے امن، مساوات اور خوشحالی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ اس کے بعد نو منتخب صدر نے کوہاٹ میں کمیونٹی کے بزرگوں کے گھروں کا دورہ کر کے ان سے دعائیں اور رہنمائی حاصل کی۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ہارون سرب دیال نے کہامیں اس ذمہ داری کو عاجزی اور عزم کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کی بالمیک ہندو کمیونٹی، پاکستان کی دیگر کمزور اقلیتوں کی طرح، آج بھی قانونی تحفظ، رجسٹریشن، تعلیم اور مساوی مواقع کے حوالے سے نظاماتی خلا کا شکار ہے







