رپورٹ :سید عاصم علی قادری (لندن)
برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے آج بادشاہ چارلس سوم سے بکنگھم پیلس میں ملاقات کی، جس کے بعد انہیں باضابطہ طور پر حکومت بنانے کی دعوت دی گئی اور انہوں نے وزیرِ اعظم کے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ وہ برطانیہ کی تاریخ کے 59ویں وزیرِ اعظم بن گئے ہیں۔ یہ تبدیلی اس وقت عمل میں آئی جب سابق وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے استعفی دیا، جس کے بعد لیبر پارٹی نے اینڈی برنہم کو اپنا نیا رہنما منتخب کیا۔

اینڈی برنہم کا پورا نام اینڈریو مرے برنہم (Andrew Murray Burnham) ہے۔ وہ 7 جنوری 1970 کو انگلینڈ کے شہر لی (Leigh)، گریٹر مانچسٹر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لیورپول سے انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کی۔ سیاست میں آنے سے پہلے وہ مختصر عرصہ صحافت اور عوامی امور سے وابستہ رہے۔ ان کے والدین کا تعلق محنت کش گھرانے سے تھا، جس کا اثر ان کی سیاست اور عوامی خدمت کے نظریات پر نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ شادی شدہ ہیں، ان کی اہلیہ کا نام میری برنہم ہے، اور ان کے تین بچے ہیں۔
اینڈی برنہم نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز لیبر پارٹی سے کیا اور 2001 میں پہلی مرتبہ لی (Leigh) سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف اہم حکومتی وزارتوں، جن میں وزارتِ صحت، ثقافت، میڈیا اور کھیل شامل ہیں، میں خدمات انجام دیں۔ وہ لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے بھی کئی مرتبہ امیدوار رہے۔ 2017 میں وہ گریٹر مانچسٹر کے پہلے براہِ راست منتخب ہونے والے میئر بنے اور 2021 میں دوبارہ اس منصب پر منتخب ہوئے۔ بطور میئر انہوں نے ٹرانسپورٹ، صحت، بے گھر افراد کی بحالی اور مقامی اختیارات میں اضافے کے لیے نمایاں کام کیا، جس کی وجہ سے وہ عوام میں ایک مقبول رہنما کے طور پر ابھرے۔
2026 میں انہیں دوبارہ پارلیمنٹ کا رکن منتخب کیا گیا، جس کے بعد لیبر پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ نے انہیں اپنی جماعت کا نیا قائد منتخب کیا۔ برطانیہ کے آئینی نظام کے مطابق، جس شخص کو ایوانِ زیریں (ہاس آف کامنز) میں اکثریت کی حمایت حاصل ہو، بادشاہ اسے حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں۔ اسی آئینی روایت کے تحت آج بادشاہ چارلس سوم نے اینڈی برنہم کو وزیرِ اعظم مقرر کیا۔ اینڈی برنہم کو ایک معتدل، عوام دوست اور اصلاحات پر یقین رکھنے والے سیاست دان کے طور پر جانا جاتا ہے۔







