آذربائیجان پاکستانیوں کیلئے غیر قانونی ہجرت کا گڑھ بن گیا

وزارتِ داخلہ کی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ آذربائیجان غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ ہب کے طور پر ابھر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران آذربائیجان کا سفر کرنے والے 7 ہزار 721 پاکستانیوں کی واپسی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، جس نے انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس پر سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔وزارتِ داخلہ کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران مجموعی طور پر 1 لاکھ 06 ہزار 634 پاکستانی شہریوں نے آذربائیجان کا سفر کیا، ان سفر کرنے والے افراد میں سے 7 ہزار 721 پاکستانی ایسے ہیں جن کی وطن واپسی کا سرکاری طور پر کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2024 میں 2 ہزار 676 پاکستانی آذربائیجان جانے کے بعد واپس نہیں لوٹے، اس کے بعد سال 2025 میں واپسی کا ریکارڈ نہ رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد 2 ہزار 495 رہی جب کہ موجودہ سال 2026 کے صرف پہلے پانچ مہینوں کے دوران ہی مزید 2 ہزار 550 مسافروں کی واپسی کا کوئی ریکارڈ درج نہیں کیا گیا ہے۔وزارتِ داخلہ کے ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2026 کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران پاکستان نہ لوٹنے والوں کی شرح بڑھ کر 17 اعشاریہ 96 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عرصے میں آذربائیجان جانے والے تقریبا ہر چھ پاکستانیوں میں سے ایک شخص واپس نہیں آیا، واپس نہ لوٹنے والے 7 ہزار 721 افراد میں سے 5 ہزار 447 مسافر ایسے تھے جنہوں نے ٹورسٹ یا وزٹ ویزہ پر آذربائیجان کا سفر کیا، سب سے زیادہ واپس نہ لوٹنے کی شرح وزٹ ویزہ رکھنے والے افراد میں ریکارڈ کی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان ویزوں کو غیر قانونی ہجرت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed