مئی میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ کر 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہوگئی

پاکستان میں مئی 2026 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں بحالی دیکھنے میں آئی اور مجموعی سرمایہ کاری بڑھ کر 44 کروڑ 59 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری اور حکومتی قرضہ جاتی سرمایہ کاری میں غیر ملکی دلچسپی بڑھنے کے باعث ممکن ہوا۔ یہ اعدادوشمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق مارچ اور اپریل میں مسلسل دو ماہ تک غیر ملکی سرمایہ کاری کے انخلا کے بعد مئی میں صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی۔ اپریل میں 37 کروڑ 90 لاکھ 50 ہزار ڈالر اور مارچ میں 28 کروڑ 53 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی خالص سرمایہ کاری ملک سے باہر گئی تھی، تاہم مئی میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے باعث سرمایہ کاری دوبارہ مثبت سطح پر آ گئی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مئی میں نجی شعبے کی غیر ملکی سرمایہ کاری 19 کروڑ 77 لاکھ 90 ہزار ڈالر رہی، جو اپریل کے 5 کروڑ 51 لاکھ 60 ہزار ڈالر کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔ اس بہتری کی بنیادی وجہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ رہا، جو ایک ماہ قبل کے 5 کروڑ 44 لاکھ 60 ہزار ڈالر سے بڑھ کر 21 کروڑ 42 لاکھ 90 ہزار ڈالر ہو گئی۔مئی کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مجموعی آمد 29 کروڑ 50 لاکھ 70 ہزار ڈالر رہی، جبکہ اپریل میں یہ 27 کروڑ 33 لاکھ 80 ہزار ڈالر تھی۔ دوسری جانب منافع اور سرمایہ بیرون ملک منتقل کیے جانے کی شرح میں نمایاں کمی آئی اور اخراج 21 کروڑ 89 لاکھ 20 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 8 کروڑ 7 لاکھ 80 ہزار ڈالر رہ گیا، جس کے نتیجے میں خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ تین ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے منصوبوں میں دلچسپی بڑھائی، جبکہ منافع کی بیرون ملک منتقلی اور سرمایہ نکالنے کی رفتار بھی سست رہی۔نجی شعبے کی حصص اور مالیاتی سرمایہ کاری اگرچہ مئی میں بھی منفی رہی، تاہم اس میں نمایاں بہتری آئی۔ مئی کے دوران اس مد میں ایک کروڑ 65 لاکھ ڈالر کا خالص انخلا ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مارچ میں یہ 18 کروڑ 46 لاکھ 60 ہزار ڈالر اور فروری میں 7 کروڑ 80 لاکھ 40 ہزار ڈالر تھا۔مئی میں غیر ملکی سرکاری سرمایہ کاری نے بحالی میں اہم کردار ادا کیا اور اس مد میں 24 کروڑ 81 لاکھ 60 ہزار ڈالر کی خالص آمد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل میں 43 کروڑ 42 لاکھ 10 ہزار ڈالر اور مارچ میں 26 کروڑ 83 لاکھ 30 ہزار ڈالر کا انخلا ہوا تھا۔یہ تمام سرمایہ کاری حکومتی قرضہ جاتی دستاویزات میں ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے دوبارہ حکومتی قرضہ جاتی ذرائع میں دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔ اس سے قبل جنوری میں اس مد میں 19 کروڑ 91 لاکھ 60 ہزار ڈالر اور فروری میں 5 کروڑ 11 لاکھ 70 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری آئی تھی، تاہم مارچ اور اپریل میں یہ رجحان منفی ہو گیا تھا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں اتار چڑھا دیکھنے میں آیا۔ جنوری میں 31 کروڑ ڈالر اور فروری میں 18 کروڑ 66 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی خالص سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، تاہم مارچ اور اپریل میں بیرونی غیر یقینی صورتحال اور مالیاتی سرمایہ کاری کے انخلا کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا۔مئی میں ہونے والی بحالی کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاری جنوری کے بعد اپنی بلند ترین ماہانہ سطح پر پہنچ گئی اور گزشتہ دو ماہ کی بڑی حد تک کمی کا ازالہ ہو گیا۔اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا کردار مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔ معاشی اشاریوں میں بہتری، بیرونی شعبے میں استحکام، براہِ راست سرمایہ کاری میں اضافہ، سرمایہ کے اخراج میں کمی اور حکومتی قرضہ جاتی ذرائع میں نئی غیر ملکی دلچسپی نے مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری کو دوبارہ مثبت سطح پر پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔مجموعی طور پر مئی 2026 کے دوران پاکستان نے تقریبا 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی، جس کی بنیاد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور سرکاری شعبے کی مالیاتی سرمایہ کاری میں بحالی رہی، جس سے ملک کے بیرونی کھاتوں اور سرمایہ کاری کے ماحول کو تقویت ملی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed