خیبرپختونخوا میں شدید گرمی، حبس اور غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں بجلی کی مسلسل بندش کے باعث احتجاجی مظاہرے، جرگے، شاہراہیں بند کرنے کی دھمکیاں اور بعض مقامات پر مشتعل شہریوں کی جانب سے گرڈ اسٹیشنوں پر دھاوے جیسے واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ دوسری جانب محکمہ صحت نے ہیٹ ویو سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے متعدد خصوصی مراکز قائم کر دیے ہیں۔ضلع بنوں میں بجلی کی طویل بندش سے مشتعل شہریوں نے 132 کے وی پیسکو گرڈ اسٹیشن پر دھاوا بول دیا اور مبینہ طور پر زبردستی فیڈرز چالو کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں بجلی کا نظام اوور لوڈ ہو گیا اور بنوں گرڈ سے بجلی کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ پیسکو ترجمان کے مطابق واقعے کے بعد تکنیکی عملہ فوری طور پر گرڈ اسٹیشن پہنچا اور نظام کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مرمتی کام شروع کر دیا گیا۔ادھر مردان میں شدید گرمی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ گجر گڑھی میں منعقدہ گرینڈ جرگے میں مقامی عمائدین، منتخب نمائندوں اور نوجوانوں نے شرکت کی اور پیسکو حکام کو دو روز کے اندر بجلی کی صورتحال بہتر بنانے کی مہلت دینے کا فیصلہ کیا۔ جرگے نے اعلان کیا کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو بھرپور احتجاج کے ساتھ عدالتی کارروائی بھی کی جائے گی۔نوشہرہ کے علاقوں اکبرپورہ، تحصیل بالو اور گردونواح میں بھی پندرہ پندرہ گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شہری سراپا احتجاج بن گئے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بجلی اور پانی کی مسلسل بندش نے معمولات زندگی مفلوج کر دیے ہیں۔ ان کا مقف ہے کہ باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کرنے کے باوجود انہیں بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ مظاہرین نے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں جی ٹی روڈ بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور چیف ایگزیکٹو پیسکو سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔صوبائی دارالحکومت پشاور بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔ شدید گرمی کے باعث شہر میں متعدد افراد بے ہوش ہو گئے جبکہ سنٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی حالت متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور اور بنوں موجودہ ہیٹ ویو سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں، جبکہ شمال مغربی اضلاع میں بھی معمول سے کئی ڈگری زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ہیٹ ویو کے پیش نظر صوبائی محکمہ صحت نے پشاور، مردان، نوشہرہ، بنوں، خیبر، سوات، صوابی، مہمند، بونیر اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت دس اضلاع میں تیس خصوصی ہیٹ ویو پوائنٹس قائم کیے ہیں، جہاں اب تک 142 متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ ان مراکز پر صاف پینے کا پانی، ضروری ادویات، ابتدائی طبی امداد، تربیت یافتہ طبی عملہ اور ریسکیو 1122 کی گاڑیاں بھی تعینات کی گئی ہیں تاکہ شدید گرمی سے متاثر ہونے والے افراد کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔







