امریکی کانگریس میں اسرائیل کی 303ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز

امریکی کانگریس میں اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ 3.3 ارب ڈالر کی فوجی امداد روکنے کی تجویز پیش کردی گئی ۔ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس گریگ کاسر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریپبلکن رکن تھامس میسی کی پیش کردہ اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے جس میں اسرائیل کی سالانہ فوجی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ گریگ کاسر نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور امریکا کو ایران کے ساتھ تنازع میں الجھانے میں کردار ادا کیا اس لیے امریکی ٹیکس دہندگان کو مزید ہتھیاروں کی مالی معاونت نہیں کرنی چاہیے۔مجوزہ ترمیم میں نہ صرف اسرائیل کیلئے 3.3 ارب ڈالر کی سالانہ فوجی امداد ختم کرنے بلکہ محکمہ خارجہ کے بجٹ میں اسرائیل کے لیے مختص فنڈز بھی منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔دوسری جانب تھامس میسی حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار ایڈ گیلرین کے ہاتھوں ریپبلکن پرائمری انتخاب ہار گئے تھے۔یہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی تاریخ کا سب سے مہنگا پرائمری انتخاب قرار دیا گیا جس میں میسی کے خلاف 32 ملین ڈالر سے زائد خرچ کیے گئے جبکہ اس فنڈنگ کا بڑا حصہ اسرائیل نواز تنظیموں اور ٹرمپ کے حامی گروپوں کی جانب سے آیا۔ کانگریس میں اس ترمیم پر رواں ہفتے ووٹنگ متوقع ہے جس پر امریکا کی اسرائیل پالیسی کے حوالے سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed