خیبرپختونخوا اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر جاری بحث حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت لفظی معرکے میں تبدیل ہوگئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی معاشی، انتظامی اور ترقیاتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیانات کو حکومت کے خلاف اہم حوالہ بنایا، جبکہ حکومتی ارکان نے صوبائی حقوق کے حصول، وفاقی واجبات اور مالی خودمختاری کے معاملے پر مشترکہ موقف اپنانے پر زور دیا۔جمعیت علمائے اسلام (ف)کے پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمن، پیپلز پارٹی کے احمد کریم کنڈی، تحریک انصاف پارلیمنٹرین کے ارباب وسیم، عوامی نیشنل پارٹی کے ارباب عثمان اور مسلم لیگ (ن) کے سردار شاہجہان یوسف نے بجٹ کو غیرحقیقی اور خسارے پر مبنی قرار دیتے ہوئے وسائل کی منصفانہ تقسیم، امن و امان، صحت، تعلیم، بلدیاتی نظام اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن ارکان نے کہا کہ سابق وزیراعلی کے بیانات خود حکومتی ناکامیوں کا اعتراف ہیں اور محض اعترافات کے بجائے عملی اصلاحات کی ضرورت ہے۔بحث سمیٹتے ہوئے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ صوبے کے مالی حقوق کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن ایک صفحے پر ہیں۔ انہوں نے وفاق سے واجبات کی ادائیگی، این ایف سی ایوارڈ پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں آئینی عدالت سے رجوع کرنے اور صوبائی حقوق کے لیے اسمبلی کی خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع، صحت، تعلیم اور پولیس کے شعبوں میں صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے اضافی اخراجات کیے ہیں اور نئے مالی سال میں ان شعبوں کے لیے مزید فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔وزیر اطلاعات شفیع جان نے بجٹ کو صوبے کی تاریخ کا پہلا "کمپوز بجٹ” قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی نے ہر فورم پر صوبے کے مالی حقوق کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت اپنے آئینی حقوق کے حصول اور عوامی مفادات کے تحفظ کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔اسمبلی میں مجموعی طور پر صوبے کے مالی حقوق، این ایف سی ایوارڈ، وسائل کی منصفانہ تقسیم، صحت و تعلیم میں اصلاحات، امن و امان کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کے مطالبات نمایاں رہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے وفاق کے ساتھ مالی معاملات پر صوبے کے مقف کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔







