یونیورسٹیزمیں انتظامی پوسٹوں پر ٹیچرز کی تعیناتی پر جواب طلب

پشاور ہائیکورٹ نےیونیورسٹیز میں انتظامی پوسٹوں پر ٹیچرز کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ایچ ای ڈی) اور تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو نوٹس جاری کرکے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔ رٹ کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز خان صابی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ درخواست گزار آصف بابر نے عدالت کوبتایا کہ یونیورسٹیز میں انتظامی پوسٹوں پر ٹیچرز تعینات کئے گئے ہیں جو یونیورسٹیز ایکٹ سیکشن 17 اے کے خلاف ہے۔انہوں نےعدالت کوبتایا کہ یونیورسٹیز ایکٹ سیکشن 17 اے میں واضح لکھا ہے کہ انتظامی پوسٹوں پر ٹیچرز تعینات نہیں ہونگے،یونیورسٹیز اس وقت مالی بحران کا شکار ہے، اور اس کی ایک وجہ ان پوسٹوں پر غیر متعلقہ افسران کی تعیناتی ہے، تمام یونیورسٹیز میں ایڈمنسٹریٹیوں پوسٹوں پر متعلقہ افسران کو تعینات کیا جائے ۔درخواست گزار وکیل کے مطابق وائس چانسلرز نے اپنی مرضی کے ٹیچرز کو ان پوسٹوں پر تعینات کیا ہے یونیورسٹیز ایکٹ 2012 میں 2016 میں ترمیم کی گئی اور سیکشن 17 اے ڈالا گیا، جس میں ایڈمنسٹریٹیوں پوسٹوں پر تعیناتی کا ذکر ہے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ایچ ای ڈی) اور تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو نوٹس جاری کرکے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed