پشاور ہائیکورٹ میں بشیر آباد سے لاپتہ پراپرٹی ڈیلر کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی۔درخواست گزار کے والد نے عدالت کو بتایا کہ ان کا بیٹا وقاص شفیق گزشتہ 31 روز سے لاپتہ ہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاپتہ شخص کیا کام کرتا تھا؟ جس پر والد نے بتایا کہ وہ پراپرٹی کا کاروبار کرتا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا کسی کے پیسے وغیرہ کا معاملہ تو نہیں تھا؟ اکثر ایسے کیسز میں لوگ مالی معاملات کی وجہ سے غائب ہو جاتے ہیں۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ان کا بیٹا انہیں اپنے کاروباری معاملات سے لاعلم رکھتا تھا اور کئی سالوں سے علیحدہ رہ رہا تھا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ شخص کے خلاف مبینہ طور پر 60 کروڑ روپے کے مالی فراڈ سے متعلق رپورٹس درج ہیں۔پولیس کے مطابق سی ڈی آر ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ لاپتہ شخص کا موبائل بشیر آباد کے علاقے سے بند ہوا تھا، جبکہ ابتدائی طور پر یہ بھی بتایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں موجود ہو سکتا ہے۔تاہم والد نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کو غائب کیا گیا ہے۔پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ شخص کے ایک دوست کی جانب سے بھی اطلاع دی گئی ہے کہ وہ اسلام آباد میں موجود ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر متعلقہ شخص کو پیش کیا جائے اور پولیس سے تین روز میں رپورٹ طلب کر لی۔عدالت نے مزید سماعت یکم جون تک ملتوی کر دی۔







