جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیرو سینیٹر سراج الحق نے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کے ثالثی کردار کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کسی جنگ میں داخل نہیں ہو سکتا، اتوار کو موضع منصب دار میں واقع مرکز احیا العلوم میں جماعت اسلامی کے اجتماع ارکان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے کا امن پاکستان کے مفاد میں ہے اور ہمیں جنگ کی بجائے سفارتکاری کو ترجیح دینی چاہیے، انہوں نے کہا کہ!پی ٹی آئی کارکنان اپنی ہی قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار جلسوں، دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں میں کر رہے ہیں،پارٹی کارکنان خود اپنے سابق وزرائے اعلی پرویز خٹک، محمود خان اور اب موجودہ معاون خصوصی سہیل آفریدی کے خلاف بول پڑے ہیں، سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ عوامی مسائل جوں کے توں ہیں، صوبے میں مہنگائی،بیروزگاری، سی این جی پمپس کی بندش سمیت سب بحرانوں کا اعتراف پی ٹی آئی کے کارکنان خود کر رہے ہیں،کارکنان کا کہنا ہے کہ قیادت نے صرف دعوے کیے، عملی کام صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں حق و باطل کے درمیان جنگ ہے ایسے حالات میں خیر و شر کا پہچان کرنا ہے ، دنیا بھر میں انسانوں کے بنائے ہوئے نیشنلزم ، کمیونزم ، شخصیت پرستی ، ڈیوکریسی وغیرہ سارے باطل اور گمراہ ہیں ، موجودہ دور کے بت پرست ماضی کے بتوں سے زیادہ خطرناک ہیں ، اس لئے ان بتوں کو توڑنا ہو گا ، جو انسان اللہ تعالی کے دین ، قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کامیاب ہوا وہی جنت جانے کا مستحق ہوا ، انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان جو امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے ساری دنیا اسے قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے ، پاکستان کے لیے ثالثی سے اچھا کوئی راستہ نہیں کیوں کہ ہم اس جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا اور اسرائیل ظالم ہے کیونکہ انہوں نے بغیر کسی وجہ سے ایک اسلامی ملک پر جارحیت کی ہے،دنیا کی تمام آزاد اقوام کو اس وقت امریکا اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران کا ساتھ دینا چاہیئے







