سنٹرل جیل پشاور، کال کوٹھڑیوں سے ہنرمندی اور علم کے اُجالوں تک کا سفر

عدنان بشیر

اسد خان

سزا اور قید کا لفظ سنتے ہی اکثر لوگ خوف محسوس کرتے ہیں۔ ذہن میں کال کوٹھڑیاں، سخت سلاخیں، اونچی دیواریں اور اندھیرا اُبھر آتا ہے۔ لیکن پشاور کی سنٹرل جیل نے اس تصور کو بدل دیا ہے۔ یہاں قیدیوں کو صرف سزا نہیں دی جاتی بلکہ انہیں اپنی زندگی بہتر بنانے کے مواقع بھی دیے جاتے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ کا نعرہ ہے: "نفرت انسان سے نہیں، جرم سے ہے”۔ یہی نعرہ قیدیوں میں امید اور حوصلے کی روشنی پیدا کرتا ہے۔

سنٹرل جیل پشاور کو 1854 میں برطانوی دور میں بنایا گیا تھا۔ اُس وقت جیل کا مقصد صرف سزا دینا اور جرائم کو روکنا تھا۔ جیل کی دیواریں اونچی اور مضبوط تھیں تاکہ کوئی قیدی باہر نہ جا سکے۔ قیدیوں کے لیے زندگی سخت اور مشکل تھی۔ وقت کے ساتھ حالات بدل گئے۔ آج یہ جیل اصلاح اور تربیت کا مرکز بن چکی ہے۔
جیل میں کام کرنے والا عملہ بہت محنتی اور ذمہ دار ہے۔ سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ دو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور 18 اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ہیں جو مختلف شعبوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ کل 688 اہلکار ہیں جو نہ صرف سکیورٹی فراہم کرتے ہیں بلکہ قیدیوں کی تعلیم، صحت اور ہنر مندی کے پروگرام بھی دیکھتے ہیں۔ یہی جذبہ اس جیل کو عام قید خانہ نہیں بلکہ ایک تربیتی مرکز بناتا ہے۔
اس وقت جیل میں کل 3084 قیدی ہیں۔ ان میں 3054 مرد اور 30 خواتین شامل ہیں۔ 1960 قیدی زیر التوا مقدمات میں ہیں اور 213 قیدی سزائے موت کے منتظر ہیں۔ جیل کی گنجائش 3500 قیدیوں کی ہے، اس لیے زیادہ بھیڑ کا مسئلہ سنجیدہ نہیں۔ تاہم ہر قیدی کو بہتر سہولت دینا انتظامیہ کے لیے ایک مستقل چیلنج ہے۔ قیدیوں کی صحت کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جیل میں مکمل میڈیکل سسٹم موجود ہے۔ یہاں میڈیکل وارڈ، ایمرجنسی ایڈمٹ، لیبارٹری، ڈینٹل یونٹ اور مستقل ڈاکٹر موجود ہیں۔ اگر کسی قیدی کو شدید بیماری لاحق ہو تو اسے فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ قیدیوں کی روزانہ چیک اپ کی جاتی ہے اور انہیں وقت پر دوا فراہم کی جاتی ہے۔
قیدیوں میں نشے کی عادت کو ختم کرنے کے لیے جیل میں ایک ڈرگ ری ہیبلیٹیشن سینٹر قائم ہے۔ یہ سینٹر 20 بیڈز پر مشتمل ہے اور یہاں ماہر ڈاکٹروں اور سائیکالوجسٹس کی نگرانی میں علاج کیا جاتا ہے۔ قیدیوں کو کونسلنگ دی جاتی ہے، دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی ہے، اور ورزش اور صفائی کے اصول سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ صحت مند زندگی گزار سکیں۔


سینٹرل جیل پشاور میں ایک جدید لائبریری بھی ہے۔ یہاں مذہبی کتب، تاریخ، نفسیات، ادب، ناول اور شاعری کی کتابیں موجود ہیں۔ قیدیوں کو مطالعے کی عادت ڈالنے کے لیے مختلف مقابلے اور تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ مطالعہ کرنے سے قیدی اپنی زندگی کو بہتر انداز میں دیکھنے لگتے ہیں۔ جو لوگ پہلے جرم کی دنیا میں گم تھے، وہ اب علم حاصل کرکے اپنی زندگی کو مثبت سمت میں لے جاتے ہیں۔ جیل کا سب سے منفرد حصہ انڈسٹریل یونٹ ہے۔ یہاں قیدیوں کو مختلف فنی ہنر سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ رہائی کے بعد خود کفیل بن سکیں۔
جوتا سازی اور شو میکنگ کپڑا سازی اور درزی کا ہنر پینٹنگ اور آرٹ ورک کمپیوٹر اور آئی ٹی کورسز قیدیوں کی بنائی ہوئی مصنوعات جیل کے باہر فروخت کی جاتی ہیں۔ اس آمدنی کا 10 فیصد جیل کے پروڈکٹ پر خرچ ہوتا ہے، 60 فیصد جیل چیریٹی فنڈ میں جاتا ہے، اور 30 فیصد قیدیوں کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کی مدد کر سکیں۔ اس سے قیدیوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ اب بھی اپنے خاندان کے لیے مددگار بن سکتے ہیں۔قیدیوں کے لیے ماہر نفسیات، سماجی کارکن اور موٹیویشنل اسپیکرز وقتاً فوقتاً لیکچرز دیتے ہیں۔ یہاں ٹیم ورک، سیمینارز اور گروپ ایکٹیوٹیز منعقد کی جاتی ہیں۔ اس سے قیدیوں میں مثبت سوچ اور خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ قیدی اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرتے ہیں

جیل انتظامیہ کہتی ہے کہ صحت مند جسم ہی صحت مند ذہن پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے قیدیوں کے لیے روزانہ ورزش لازمی ہے۔ صبح اجتماعی ورزش ہوتی ہے اور شام کو فٹبال، والی بال اور دیگر کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف قیدیوں کی صحت بہتر بناتی ہیں بلکہ ان کے حوصلے بھی بڑھاتی ہیں۔
جیل انتظامیہ کے مطابق کئی قیدی یہاں تعلیم اور ہنر سیکھ کر رہائی کے بعد کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ نے اپنا کاروبار شروع کیا، کچھ نے ملازمت اختیار کی، اور کئی اپنی فیملی کے ساتھ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ کامیاب مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اصلاحی ماڈل واقعی کام کر رہا ہے۔
جیل انتظامیہ چاہتی ہے کہ سینٹرل جیل پشاور کو یونیورسٹی ماڈل میں تبدیل کیا جائے۔ اس ماڈل کے تحت قیدی نہ صرف ہنر بلکہ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی قیدی جاہل یا بے ہنر رہ کر معاشرے میں واپس نہ جائے بلکہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند فرد کے طور پر نئی زندگی شروع کرے۔یوں سنٹرل جیل پشاور محض ایک قید خانہ نہیں بلکہ ایک مکمل اصلاحی اور تربیتی مرکز بن چکی ہے۔ یہاں صحت، تعلیم، ہنر اور کونسلنگ کے ذریعے قیدیوں کو بہتر مستقبل کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ جیل اس بات کی روشن مثال ہے کہ اگر ریاست قیدیوں کو مواقع دے تو وہ بھی معاشرے کے کارآمد شہری بن سکتے ہیں۔ سزا کے اندھیروں سے امید کے اُجالوں تک کا یہ سفر سینٹرل جیل پشاور کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed