عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا امیر حیدر ہوتی نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے سوال کیا ہے کہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کہاں چلا گیا، کیونکہ اب پارٹی کے مطالبات صرف علاج اور ملاقات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔اپنے بیان میں امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ قیدی کو علاج معالجے کی سہولت اور اہلِ خانہ سے ملاقات کا حق دینے کا مطالبہ تو وہ بھی بطور سیاسی مخالف کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ بنیادی انسانی تقاضے ہیں۔انہوں نے پی ٹی آئی رہنماں سے سوال کیا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے پیچھے کیوں ہٹ گئے ہیں؟ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنمائوں نے تو عوام سے ووٹ ہی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر لیا تھا، اس لیے انہیں وضاحت کرنی چاہیے کہ اب یہ مطالبہ کیوں پس منظر میں چلا گیا ہے۔سابق وزیراعلی نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ اور قیدی کو علاج و ملاقات کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ الگ الگ معاملات ہیں، تاہم پی ٹی آئی قیادت کو اپنے سابقہ سیاسی موقف اور عوام سے کیے گئے وعدوں کے حوالے سے جواب دینا چاہیے







