چینی رہنما لیو ہائی شنگ کا دورہ پاکستان، باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق

امجد عزیز ملک

پاکستان اور چین کی دوستی بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط یہ تعلقات محض سفارتی روابط یا اقتصادی مفادات تک محدود نہیں رہے بلکہ باہمی اعتماد، احترام، مشترکہ مفادات اور عوامی محبت کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ وقت کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات نے نئی جہتیں اختیار کی ہیں اور آج یہ دوستی سیاسی، دفاعی، اقتصادی، ثقافتی اور عوامی تعاون کی ایک جامع شراکت داری کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ایسے وقت میں جب عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، علاقائی سلامتی کے نئے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں اور معاشی تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے، چین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائی شنگ (Liu Haixing) کا پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔چینی رہنما یکم نومبر 2026 کو نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر اسلام آباد پہنچے۔

یہ ان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ ہوائی اڈے پر سینیٹر انوشہ رحمان خان اور وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری برائے ایشیا پیسیفک ڈاکٹر محمد فیصل نے ان کا استقبال کیا۔اس دورے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ چینی رہنما نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ ان ملاقاتوں سے دونوں ممالک کی جانب سے اعلی سطحی رابطوں کو جاری رکھنے کی خواہش سامنے آئی۔دو نومبر کو وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات میں لیو ہائی شنگ نے پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے مختلف پہلوں پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور عوامی محبت کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے سیاسی رابطوں، دونوں ممالک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، مواصلاتی روابط، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔چینی رہنما نے اپنی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں اور پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستی کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے چینی وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔یہ ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ پاکستان کو اس وقت معاشی استحکام، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کے ساتھ تعاون ان شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اعلی سطحی مفاہمت کو قابلِ عمل منصوبوں اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے۔

چینی رہنما کے دورے کا ایک نمایاں پہلو جنرل ہیڈکوارٹرز، راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات تھی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان اور چین کے تاریخی اور آزمودہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے اعلی سطحی رابطوں، ادارہ جاتی تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔چینی رہنما نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔پاکستان اور چین کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک دفاعی ٹیکنالوجی، تربیت اور دیگر شعبوں میں تعاون کی تاریخ رکھتے ہیں۔ موجودہ علاقائی حالات میں ان روابط کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔افغانستان کی صورتحال، سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خطرات اور علاقائی اقتصادی روابط ایسے معاملات ہیں جن میں پاکستان اور چین کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس ملاقات کی جاری کردہ تفصیلات میں ہر علاقائی مسئلے کا الگ سے ذکر نہیں کیا گیا، تاہم وسیع تر علاقائی سلامتی کے تناظر میں اس تعاون کی اہمیت واضح ہے۔اس ملاقات میں دونوں رہنماں نے ثقافتی تعلقات اور عوامی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ چینی وزیر نے اپنے ملک کے وزیر خارجہ وانگ یی کی جانب سے نیک خواہشات پہنچائیں، جبکہ اسحاق ڈار نے پاکستانی قیادت کی جانب سے صدر شی جن پنگ کے لیے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔دونوں رہنماں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین باہمی تعاون اور قریبی رابطوں کو برقرار رکھیں گے۔اس ملاقات کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ پاک چین دوستی کو صرف حکومتوں اور اعلی حکام کے تعلقات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس میں طلبہ، اساتذہ، صحافیوں، تاجروں، فنکاروں، نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی بھرپور کردار ادا کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔چینی رہنما کے دورہ پاکستان کے حوالے سے فیصل مسجد، اسلام آباد کا دورہ بھی ایک اہم پہلو کے طور پر سامنے آیا ہے۔ فیصل مسجد پاکستان کے نمایاں مذہبی اور تعمیراتی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ غیر ملکی وفود کے لیے ایسے مقامات کا دورہ میزبان ملک کی تہذیب، مذہبی روایات اور ثقافتی ورثے سے واقفیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔پاکستان اور چین کی دوستی کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک مختلف تہذیبی اور سماجی روایات رکھنے کے باوجود باہمی احترام اور تعاون کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ یہی احترام عوامی سطح پر دوستی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔چینی رہنما کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور چین کے اقتصادی تعاون میں سی پیک کے دوسرے مرحلے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔سی پیک کے ابتدائی مرحلے میں توانائی، شاہراہوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر توجہ دی گئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، زراعت کی جدید کاری، خصوصی اقتصادی زونز، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کاروباری روابط کو مزید فروغ دینے کی گنجائش موجود ہے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو محض بڑے ترقیاتی منصوبوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں، نوجوانوں کی فنی تربیت، زرعی پیداوار میں اضافے اور برآمدی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔خصوصا خیبر پختونخوا جیسے صوبے میں صنعتی ترقی، معدنی وسائل، سیاحت، زراعت اور نوجوانوں کی پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں چینی تجربات سے فائدہ اٹھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔اس سلسلے میں حکومتوں، کاروباری اداروں، جامعات اور تربیتی مراکز کے درمیان مستقل رابطوں کی ضرورت ہے تاکہ اقتصادی تعاون کے فوائد عام شہریوں تک بھی پہنچ سکیں۔سال 2026 پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کا سال بھی ہے۔ دونوں ممالک نے 21 مئی 1951 کو سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ اس طویل عرصے میں پاک چین دوستی مختلف سیاسی اور بین الاقوامی تبدیلیوں کے باوجود برقرار رہی۔اب وقت آ گیا ہے کہ اس دوستی کو نئی نسل کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ نوجوانوں کے لیے تعلیمی وظائف، چینی زبان سیکھنے کے مواقع، مشترکہ تحقیقی منصوبے، ثقافتی وفود کے تبادلے اور پیشہ ورانہ تربیت جیسے اقدامات دوطرفہ تعلقات کو نئی مضبوطی دے سکتے ہیں۔اس تناظر میں پشاور میں قائم چینی ثقافتی و اطلاعاتی مرکز، چائنہ ونڈو، جیسے ادارے بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چائنہ ونڈو نہ صرف پاکستان اور چین کے عوام کو ایک دوسرے کی ثقافت، تاریخ اور روایات سے روشناس کرانے کے لیے سرگرم ہے بلکہ چینی زبان کی مفت تعلیم اور ثقافتی تقریبات کے ذریعے نوجوان نسل کو چین کے قریب لانے کی کوششیں بھی کر رہا ہے۔چینی رہنما اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ملاقات میں ثقافتی اور عوامی روابط پر ہونے والی گفتگو ایسے اداروں کے لیے مزید تعاون اور مشترکہ سرگرمیوں کے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔لیو ہائی شنگ کا تعلق چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اس اہم شعبے سے ہے جو دنیا بھر کی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے ساتھ روابط قائم رکھنے کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ اس لیے ان کا دورہ محض روایتی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان روابط بڑھانے کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتیں چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ اس اتفاقِ رائے کو تعلیم، معاشی منصوبہ بندی، صنعتی ترقی اور عوامی فلاح کے طویل المدتی منصوبوں میں تبدیل کرنا دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔سیاسی جماعتوں کے درمیان وفود کے تبادلے، ترقیاتی تجربات سے آگاہی اور مشترکہ مکالمے کے ذریعے باہمی تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔چینی رہنما لیو ہائی شنگ کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان مسلسل اعلی سطحی روابط کی ایک اہم کڑی ہے۔ وزیراعظم، عسکری قیادت اور نائب وزیراعظم سے ان کی ملاقاتوں میں سیاسی، اقتصادی، دفاعی، علاقائی اور ثقافتی تعاون کے مختلف پہلو سامنے آئے۔تاہم کسی بھی اعلی سطحی دورے کی دیرپا اہمیت کا اندازہ صرف ملاقاتوں اور مشترکہ بیانات سے نہیں بلکہ ان کے نتیجے میں ہونے والی عملی پیش رفت سے لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ چین کے ساتھ اپنے مضبوط دوستانہ تعلقات کو صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تعلیم، زراعت، سرمایہ کاری اور روزگار کے ٹھوس مواقع میں تبدیل کرنے پر توجہ دے۔پاک چین دوستی کا مستقبل صرف حکومتوں اور سفارتی اداروں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام، نوجوانوں، تعلیمی اداروں، تاجروں اور ثقافتی تنظیموں کی مشترکہ کوششوں سے بھی وابستہ ہے۔لیو ہائی شنگ کے دورے کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ پاکستان اور چین کے تاریخی تعلقات کو نئی عالمی حقیقتوں، اقتصادی ضروریات اور آنے والی نسلوں کی توقعات کے مطابق مزید مضبوط بنایا جائے۔ دوستی کی مضبوط بنیاد پہلے ہی موجود ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بنیاد پر ترقی، خوشحالی اور عوامی تعاون کی نئی عمارت تعمیر کی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed