برطانیہ کی یونیورسٹی آف برسٹل کے سائنس دانوں نے الزائمر کے خلاف جین تھراپی کے شعبے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے خطرناک جینیاتی عناصر کو کم خطرے والے جینز میں تبدیل کرنے کا کام کامیابی سے انجام دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق محققین نے انسانی خلیوں میں خصوصی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے الزائمر کے بنیادی جینیاتی خطرے کے ذمہ دار جین APOE4 کو نسبتاً محفوظ جین APOE3 میں تبدیل کیا۔ ماہرین کے مطابق ہر چار میں سے ایک شخص میں APOE4 جین کی کم از کم ایک نقل موجود ہوتی ہے جو الزائمر کا خطرہ بڑھا دیتی ہے، اگرچہ اس کی موجودگی سے بیماری کا ہونا لازمی نہیں ہوتا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں صرف ایک بار انجیکشن کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کا علاج ممکن ہو سکے گا۔
سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ جسمانی سرگرمیاں اور سماجی روابط برقرار رکھنا بھی اس بیماری سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ پیش رفت الزائمر اور ڈیمنشیا کے علاج کے لیے نئی امید پیدا کرتی ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کو عام انسانی علاج کا حصہ بنانے کے لیے مزید طبی آزمائشیں اور تحقیق درکار ہوگی۔







