مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھولے جائیں اور بلاجواز تنگ کرنا بند کیا جائے، مولانا حسین احمد

اتحادِ تنظیماتِ مدارس خیبرپختونخوا نے محکمہ تعلیم کے تحت دینی مدارس کی جبری رجسٹریشن اور کوائف کے نام پر اداروں کو تنگ کرنے کے عمل کو مدارس کی آزادی پر قدغن قرار دیتے ہوئے فوری طور پر مسدود بینک اکاؤنٹس بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جامعہ امداد العلوم مسجد درویش پشاور صدر میں صوبائی عہدیداران مولانا عبدالناصر لطیف، مولانا عمر عبدالعزیز، مولانا عابد شاکری اور مولانا ہدایت الرحمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اتحادِ تنظیماتِ مدارس کے صوبائی صدر مولانا حسین احمد نے کہا کہ مدارس نے کبھی بھی قانونی رجسٹریشن سے انکار نہیں کیا، تاہم آئین کی پامالی اور یکطرفہ فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تعلیم صوبائی معاملہ ہے اور سوسائٹیز ایکٹ کے تحت پہلے ہی قانونی فریم ورک موجود ہے، لہٰذا ڈی جی آر ای کے نام پر بلاجواز دباؤ ڈالنا ناانصافی ہے۔مولانا حسین احمد نے مدارس کو قومی دھارے میں لانے کی باتوں کو سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس ہمیشہ سے آئین، قانون اور ملک کی سلامتی و استحکام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ انہوں نے مدارس کو دہشت گردی سے منسوب کرنے کی سخت مذمت کی اور واضح کیا کہ علما خود دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں، جبکہ پیغامِ پاکستان کے ذریعے اس ناسور کے خلاف واضح موقف اپنائا جا چکا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مدارس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور کارروائیوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed