کوہستان میگا سکینڈل میں ایک اور بڑی گرفتاری’انکشافات

قومی احتساب بیورو(نیب)خیبر پختونخوا نے کوہستان میگا سکینڈل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک اور ملزم محمد ایاز کو گرفتار کرلیا، جسے احتساب عدالت نے سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم محمد ایاز کوہستان میگا سکینڈل کے مرکزی ملزمان میں شامل ہے اور وہ نیشنل بینک کی داسو برانچ کے سابق ملازم محمد ریاض کا بھائی ہے۔تحقیقات کے مطابق محمد ریاض نے بینک کی ملازمت سے استعفی دینے کے بعد اپنے اور اپنے بھائیوں کے نام پر متعدد کمپنیاں رجسٹرڈ کرائیں۔نیب ذرائع کا دعوی ہے کہ ان کمپنیوں کو سرکاری خزانے سے مجموعی طور پر 11 ارب 17 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری کیے گئے، تاہم ان رقوم کے عوض کوئی سول ورک انجام نہیں دیا گیا۔نیب ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم محمد ایاز پر الزام ہے کہ وہ مرکزی ملزم محمد ریاض کے بے نامی دار اور معاون کے طور پر کام کرتا رہا اور اس کے اثاثے اپنے نام پر رکھے۔تحقیقات میں یہ دعوی بھی سامنے آیا ہے کہ محمد ایاز کے نام پر متعدد جائیدادیں موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت 25 کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔نیب ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملزم پر مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی رقوم مختلف بینک اکانٹس کے ذریعے منتقل کرنے اور ان کی اصل و نقل و حرکت چھپانے کا بھی الزام ہے۔گرفتاری کے بعد محمد ایاز کو احتساب عدالت پشاور میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ملزم کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔نیب ذرائع کے مطابق کوہستان میگا سکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید اہم انکشافات اور گرفتاریوں کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed