خواتین کو ہنر، مالی وسائل اور معاشی مواقع فراہم کرنا پاکستان کی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ناگزیر ہے۔ پشاور میں منعقدہ ایک قومی سیمینار کے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ معیشت میں خواتین کی بامعنی شرکت جامع ترقی، مضبوط معاشرتی ڈھانچے اور پاکستان کے روشن و خوشحال مستقبل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔دخترانِ پاکستان کی سماجی و معاشی بااختیاری کے عنوان سے منعقدہ اس سیمینار کا اہتمام پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف)نے شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی (ایس بی بی ڈبلیو یو)، پشاور، وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت، پیغامِ پاکستان، خیبر پختونخوا سینٹر آف ایکسیلینس آن کانٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریم ازم (کے پی سی وی ای)اور وزیراعظم یوتھ پروگرام (پی ایم وائی پی)کے اشتراک سے کیا۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور معاشی مواقع کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے پاکستان کے ثقافتی ورثے، روایتی دستکاریوں اور تخلیقی صنعتوں کے تحفظ میں خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کی صلاحیتوں کو منڈیوں، مالی وسائل اور ادارہ جاتی معاونت سے منسلک کرنا ضروری ہے۔انہوں نے دیہی اور پسماندہ علاقوں کی خواتین کیلئے مواقع بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور تعلیم، ہنرمندی، ثقافت اور کاروبار کے فروغ کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور جامعات کے درمیان مضبوط تعاون کی ضرورت اجاگر کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی زیرِ قیادت کاروباری ادارے ملک کی تخلیقی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے نوجوانوں، بالخصوص نوجوان خواتین کو تعلیم، ڈیجیٹل شمولیت، تکنیکی تربیت اور کاروباری مواقع فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ کو ڈیجیٹل تعلیم اور جدید تکنیکی مہارتوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ملک بھر کے طلبہ میں تقریبا 250,000 کروم بکس فراہم کرنے کی مجوزہ اسکیم پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے تعلیمی اور روزگار کے مواقع تک میرٹ کی بنیاد پر رسائی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے تکنیکی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور کاروبار میں خواتین کی شرکت بڑھانے کے لیے جاری کوششوں کا ذکر کیا







