پشاور ہائیکورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت مختلف سرکاری اداروں میں مبینہ کرپشن کے بڑھتے ہوئے رجحان اور بے ضابطگیوں کے خلاف دائر رٹ درخواست پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو باقاعدہ نوٹس جاری کر کے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔یہ رٹ پٹیشن محمد حمدان ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی و صوبائی سطح پر جاری مبینہ کرپٹ پریکٹسز کے باعث قومی ادارے مسلسل کمزور ہو رہے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے فوری اور موثر قانونی اقدامات ضروری ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کا شفاف فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔دورانِ سماعت وکیل نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف سرکاری شعبوں میں کرپشن کی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے تناظر میں ان تحقیقاتی اداروں کی اپنی کارکردگی اور مالی معاملات کا جائزہ لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے ابتدائی دلائل مکمل ہونے پر ڈی جی نیب، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی اینٹی کرپشن، وفاقی وزارتِ قانون و انصاف، قومی اسمبلی، سینیٹ اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جامع جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔







