خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی بات کرنا قبل ازوقت ہے، عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ فی الحال کے پی میں گورنر راج کی بات کرنا قبل از وقت ہے، تاہم صوبائی حکومت امن و امان قائم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی، یوں لگتا ہے کے پی حکومت کی دہشت گردوں اور کالعدم ٹی ٹی پی سے ہمدردی ہے۔ ایک انٹرویو میں عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر میری پوزیشن تقاضا کرتی ہے کہ جو بات کروں وہ تصدیق شدہ ہو، کسی بھی قیاس آرائی پر کمنٹ کرنا قبل از وقت ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، کے پی میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی بات کرنا قبل ازوقت ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں پی ٹی آئی حکومت کی گورننس مکمل تباہ ہو چکی ہے اور دہشتگرد دندناتے پھر رہے ہیں، صوبائی حکومت پولیس کی استعداد نہیں بڑھا سکی جس کی وجہ سے شہریوں کی لاشیں گر رہی ہیں، صوبے کے لوگوں میں غم و غصہ ہے کہ بنیادی ذمہ داری جان و مال کا تحفظ ہے جو صوبائی حکومت نہیں دے پا رہی۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے مزید کہا کہ وزیر اعلی کے پی سہیل آفریدی لوگوں کو موبلائز کرنے کی حیثیت نہیں رکھتے، وہ ان لوگوں کے ساتھ جا کر بیٹھے ہیں جن کو وہ پہلے ٹائو ٹ کہا کرتے تھے، انہوں نے علی امین گنڈاپور سے منتیں کیں اس کا مطلب ہے کہ وہ کمزور ہو چکے ہیں، انہوں نے لانگ مارچ کی کال ضرور دی لیکن گرائونڈ صورتحال دیکھیں تو دہشتگردی ہو رہی ہے، ان کو اگر لانگ مارچ کرنا ہے تو دہشتگردی کے خلاف کریں اور لوگوں کے تحفظ کیلئے کریں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ان کیلئے بہت مشکل ہوگا کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں، اسلام آباد میں ڈپلومیٹک انکلیو ہیں اور سفارتی دفاتر ہیں، کیا یہ تاثر جانا چاہیے کہ اسلام آباد میں ہر وقت توڑ پھوڑ ہو رہی ہوتی ہے؟اسلام آباد کو محفوظ بنائیں گے اور مکمل انتظامات کریں گے۔ قطعاً اجازت نہیں کہ ملکی دارالحکومت کا امن تباہ اور لوگوں کے جان و مال کو برباد کیا جائے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جماعت اسلامی کی قیادت کے ساتھ ملاقات کی کمٹمنٹ کی ہے ۔وزیر اعظم سے جماعت اسلامی کی ملاقات جلد ہوگی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed