اجین میں شاہی مسجد پر احتجاج، جھڑپوں سے کشیدگی

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کشادگی منصوبے کے تحت ہٹانے کے معاملے پر احتجاج کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ مظاہرین رات بھر مسجد کے قریب موجود رہے، جبکہ پیر کی صبح پولیس اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کی رات سیکڑوں افراد مسجد کے قریب اور اندر جمع ہوئے اور مجوزہ کارروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ پولیس اور میونسپل حکام بھاری مشینری کے ساتھ موقع پر پہنچے تھے، تاہم بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی کے باعث کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔ احتجاج کرنے والے افراد نے رات مسجد میں گزاری اور مسجد کے حصے کو ہٹانے کی مخالفت کی۔

پیر کی صبح جب انتظامیہ نے مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے کا عمل شروع کیا تو صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بعض مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔ علاقے میں اضافی نفری تعینات کی گئی اور رکاوٹیں کھڑی کرکے آمد و رفت محدود کردی گئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق تقریباً 2 ہزار پولیس اہلکار علاقے میں تعینات کیے گئے۔

یہ تنازع اجین میں سڑک کشادگی کے منصوبے سے متعلق ہے، جسے 2028 میں ہونے والے سمہستھ کُنبھ کے دوران ٹریفک اور شہری سہولیات بہتر بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک سڑک کو 15 میٹر تک چوڑا کیا جارہا ہے اور اس عمل کے دوران مختلف عمارتیں اور مذہبی ڈھانچے متاثر ہورہے ہیں۔

مسجد انتظامیہ اور مسلم کمیونٹی نے متاثرہ حصے کو ہٹانے پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مذہبی مقامات کو سڑک کشادگی منصوبے سے مستثنیٰ کیا جانا چاہیے یا سڑک کے متبادل راستے پر غور کیا جائے۔

دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شاہی مسجد کا متاثرہ حصہ مجوزہ سڑک کی حدود میں آتا ہے اور سڑک کشادگی کے منصوبے میں دیگر مذہبی اور غیر مذہبی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ بعد میں مسجد کے متاثرہ حصے کو کمیونٹی کے ارکان کی جانب سے رضاکارانہ طور پر ہٹانے کا عمل شروع کیا گیا۔

عدالت کا فیصلہ

شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے کا معاملہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بینچ میں بھی زیر سماعت رہا۔ عدالت نے 9 ستمبر کو مسجد کے حصے کو ہٹانے کے خلاف دائر دو درخواستیں مسترد کردی تھیں۔

عدالت کے سامنے درخواست گزاروں نے مسجد کو وقف جائیداد قرار دیتے ہوئے مذہبی حقوق سے متعلق آئینی دفعات کا حوالہ دیا تھا۔ دوسری جانب میونسپل کارپوریشن نے مؤقف اختیار کیا کہ سڑک کشادگی کے عمل میں قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا اور مختلف مذہبی ڈھانچوں کے ساتھ یکساں طریقہ اپنایا جارہا ہے۔

عدالت نے سمہستھ کُنبھ 2028 کے دوران بڑی تعداد میں زائرین کی آمد، ٹریفک مینجمنٹ اور عوامی سہولیات کی ضرورت کو بھی اپنے فیصلے میں مدنظر رکھا۔ عدالت کے مطابق متعلقہ سڑک مہاکالیشور مندر اور دریائے شپرا کے قریب واقع ہے اور انتظامیہ نے سڑک کشادگی کے لیے ضروری قانونی کارروائی مکمل کی۔

بعد ازاں پیر کو کشیدگی کے واقعات کے بعد پولیس نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر اشتعال انگیز یا غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کی۔ حکام کے مطابق مسجد کا متاثرہ حصہ کمیونٹی کی رضامندی سے ہٹایا جارہا ہے، جبکہ شہریوں سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed